خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 420 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 420

خلافة على منهاج النبوة ۴۲۰ جلد دوم عبد الحق غزنوی نے جو مولوی عبدالواحد غزنوی کا چھوٹا بھائی تھا پیشگوئی کی تھی کہ میرے گھر بیٹا پیدا ہو گا اور مرزا صاحب ابتر مریں گے۔حضرت صاحب کہتے ہیں تم نے تو کہا تھا کہ تمہارے گھر بیٹے پیدا ہوں گے اور ہمارے ہاں کوئی نہیں ہو گا لیکن خدا نے میرے گھر میں دو اور بیٹے دے دیئے۔اور وہ دونوں پیشگوئیاں جو صد ہا انسانوں کو سنائی گئی تھیں پوری ہوگئیں اب بتلاؤ کہ تمہاری پیشگوئیاں کہاں گئیں۔ذرا جواب دو کہ اس فضول گوئی کے بعد کس قدرلڑ کے پیدا ہوئے۔ذرا انصاف سے کہو کہ جب کہ تم منہ سے دعوی کر کے اور اشتہار کے ذریعہ لڑکے کی شہرت دے کر پھر صاف نامراد اور خائب و خاسر رہے کیا یہ ذلت تھی یا عزت تھی ؟ اور اسمیں کچھ شک نہیں کہ مباہلہ کے بعد جو کچھ قبولیت مجھ کو عطا ہوئی وہ سب تمہاری ذلت کا موجب تھی۔‘۳۳ پھر فرماتے ہیں :۔اس نے میرے خلاف دعائیں کیں اُس کی دعاؤں کا کیا انجام ہوا اور میری دعاؤں کا کیا انجام ہوا:۔اب وہ کس حالت میں ہے اور ہم کسی حالت میں ہیں۔دیکھو اس مباہلہ کے بعد ہر ایک بات میں خدا نے ہماری ترقی کی اور بڑے بڑے نشان ظاہر کئے آسمان سے بھی اور زمین سے بھی اور ایک دنیا کو میری طرف رجوع دے دیا۔اور جب مباہلہ ہوا تو شاید چالیس آدمی میرے دوست تھے اور آج ستر ہزار کے قریب ان کی تعداد ہے ( اور اب خدا کے فضل سے وہ دس لاکھ کے قریب ہے اور تھوڑے ہی دنوں میں دس کروڑ سے بھی زیادہ ہو جائے گی۔اِنشَاءَ الله) ۳۴ پھر فرماتے ہیں :۔لطف تب ہو کہ اول قادیان میں آؤ اور دیکھو کہ ارادتمندوں کا لشکر کس قدر اس جگہ خیمہ زن ہے اور پھر امرتسر میں عبد الحق غزنوی کو کسی دکان پر یا بازار میں چلتا ہوا دیکھو کہ کس حالت میں چل رہا ہے۔‘۳۵ پھر فرماتے ہیں کہ :۔