خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 415 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 415

خلافة على منهاج النبوة ۴۱۵ جلد دوم ہاتھ جسے میں کرایہ بھی ادا کر دوں گا یا اگر آپ صالحہ بیگم زوجہ میر محمد اسحاق صاحب مرحوم کی خبر لینے کے لئے آئیں ( وہ ۱۹۵۲ء میں لاہور علاج کیلئے گئی تھیں ) تو آپ اپنے ساتھ لیتے آئیں مگر کسی کے ہاتھ بھجوائیں تو بے خطا بھجوائیں ضائع نہ ہو۔اس خط سے معلوم ہوتا ہے کہ ۱۹۵۳ء سے مولوی عبدالمنان اور سلسلہ کے مخالف وہابیوں میں خفیہ ساز باز جاری تھی۔ایک خط اس فائل میں اللہ رکھا کا مولوی عبدالمنان کے نام ملا ہے اس میں اس نے خواہش کی ہے کہ آپ اپنے لنگر خانہ میں مجھے ملا زمت دلوا دیں۔چنانچہ وہ لکھتا ہے :۔آپ اپنے لنگر خانہ میں مجھے ملازمت دلوا دیں ( گویا سلسلہ کا لنگر خانہ جلسہ کے کام پر مقرر کرنے کی وجہ سے اب میاں عبدالمنان کا ہو گیا ) مگر جلسہ سالانہ سے پہلے کسی اچھی جگہ پر لگا دیں۔اب اللہ رکھا کا تازہ خط پکڑے جانے پر اس خاندان نے شور مچایا ہے کہ اللہ رکھا کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں وہ خط تو اماں جی کی وفات پر محض ہمدردی کے خط کے جواب میں تھا حالانکہ یہ خط بتاتا ہے کہ اللہ رکھا سے پرانے تعلقات چل رہے تھے بلکہ قادیان سے ایک درویش نے جو کہ لنگر خانہ کا افسر تھا لکھا ہے کہ میں لنگر خانہ کے سٹور میں سویا ہوا تھا کہ رات کو میں نے دیکھا کہ اللہ رکھا آیا اس کی آنکھیں کمزور ہیں اور اُسے اندھرا تا کی شکایت ہے جس کی وجہ سے اسے رات کو ٹھیک طور پر نظر نہیں آتا اس نے آ کر ادھر اُدھر دیکھا مگر اندھیرے کی وجہ سے مجھے دیکھ نہ سکا۔اس کے بعد وہ وہاں سے سامان اُٹھا کر بازار میں بیچنے کیلئے لے گیا۔میں نے اُس کو راستہ میں پکڑ لیا پھر اور لوگ بھی جمع ہو گئے اور اس کو ملامت کی جب تحقیقات کی تو معلوم ہوا کہ وہ سامان بیچ کر میاں عبدالوہاب کی ایجنٹی کرتا ہے اور ان کو رو پیدا کر دیتا ہے وَاللهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَاب۔چونکه راوی ایک ہی ہے اس لئے ہم اس کی شہادت کی قطعی طور پر تصدیق نہیں کر سکتے جب تک کہ کئی راوی نہ مل جائیں۔اسی طرح اللہ رکھا کا ایک خط مولوی عبد المنان صاحب کے نام ملا ہے اس میں