خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 414
خلافة على منهاج النبوة ۴۱۴ جلد دوم ربوہ جا رہے ہیں؟ میں نے کہا کہ ہاں۔اس پر اس نے کہا کہ اگر آپ کو ہماری خدمات کی ضرورت ہو تو ہم حاضر ہیں کیونکہ ہماری ڈیوٹی لگی ہے کہ جلسہ پر آنے والے احمدیوں کو سہولت کے ساتھ پہنچا دیں۔میں نے اس کا شکر یہ ادا کیا اور بازار چلا گیا۔جب ہم بس میں سوار ہوئے تو وہ بھی ہمارے پاس آکر لاہور کیلئے اس بس میں بیٹھ گیا اور کہنے لگا کہ آپ لوگوں کے لئے کھانے وغیرہ کا انتظام حضرت مولوی عبدالمنان صاحب نے رتن باغ میں کیا ہے اور وہ بڑے متقی ہیں آپ وہاں تشریف لے چلیں۔میں نے پوچھا آپ کا نام کیا ہے؟ اس نے کہا کہ میرا نام ارشد ہے (ممکن ہے اس نے اپنا نام غلط بتایا ہو ہمارے علم میں اس کا نام خالد ہے ) اور میں حضرت مولوی عبدالمنان صاحب کا بھانجا ہوں اور مولوی محمد اسماعیل صاحب غزنوی کا لڑکا ہوں۔میں خدا کی قسم کھا کر بیان کرتا ہوں کہ یہ میں درست کہہ رہا ہوں۔“ (مہاشہ محمد عمر ) 66 گویا جیسے شیطان نے کہا تھا کہ اَنَا خَيْرٌ مِنْهُ کہ میں آدم سے بہتر ہوں اسی طرح اسماعیل غزنوی کے بیٹے نے ہمارے بنگالی مہمانوں کو ورغلانے کیلئے کہا کہ منان صاحب کی دعوت کھاؤ جو جماعت میں تقویٰ میں سب سے افضل ہے۔پھر ۱۹۵۳ء میں مولوی عبدالمنان صاحب نے سلسلہ کے مخالف وہابیوں سے ایک خفیہ ساز باز کی۔چنانچہ ہمیں ایک فائل اور نینٹل کمپنی کے دفتر سے ملا ہے جس کے چیئر مین مولوی عبدالمنان صاحب تھے خدا تعالیٰ نے ان کی عقل ایسی ماری کہ وہ اپنے کئی خطوط وہاں چھوڑ کر بھاگ گئے چنانچہ ایک خط اُن میں مولوی محمد اسماعیل صاحب غزنوی کا ملا ہے جو ان کے سوتیلے بھانجے ہیں اور غزنوی خاندان میں سے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا شدید دشمن رہا ہے اور جس کی مخالفت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کئی کتابیں لکھی ہیں اس میں وہ لکھتے ہیں :۔جو امانت آپ کے پاس پڑی ہے ضرورت ہے کہ وہ محفوظ ترین طریق سے میرے پاس پہنچ جائے یا تو ان کو جیپوں میں سے کسی ایک پر جو لا ہور آ رہی ہوں اشیاء بھجوا دیں معلوم ہوتا ہے سازشی طور پر یہاں سے لاہور تک ایک جال تنا ہوا تھا ) یا کسی معتبر آدمی کے