خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 399
خلافة على منهاج النبوة ۳۹۹ جلد دوم۔وہ تھے کہ بازار میں اس قسم کا ایک اشتہار ہمیں بھی ملا۔میں تو اسے پڑھ کر دم بخود ہو کر رہ گیا۔میرے ہاتھ سے یہ اشتہار مولوی علی محمد صاحب اجمیری نے لے لیا اور میاں عبدالمنان صاحب اور مولوی علی محمد صاحب اجمیری نے اس کو اکٹھا دیکھنا شروع کیا لیکن جوں جوں اشتہار کو پڑھتے جاتے تھے وہ ساتھ ساتھ عبارت پڑھتے اور ہنستے جاتے تھے مجھے اُن کا یہ فعل طبعا بُرا معلوم ہوا کیونکہ اپنے کسی بھی عزیز اور قابل عزت اور احترام بزرگ کے متعلق ایسے گندے الفاظ پڑھ کر کوئی بھی شریف آدمی بننے کی بجائے نفرت اور غصہ کے جذبات کا اظہار کرتا۔مجھ سے ان کی یہ حرکت گوارا نہ ہوئی اور میں نے ان سے یہ اشتہار چھین لیا اور کہا کہ یہ نسی کا کونسا موقع ہے۔اشتہار پڑھ کر ہمارے دل رنجیدہ ہیں اور آپ کو ہنسی آتی ہے جس پر وہ خاموش ہو گئے ممکن ہے ان کی جنسی اس اشتہار کے لکھنے والے کے متعلق حقارت کی ہنسی ہولیکن جو اثر اُس وقت مجھ پر ہوا وہ یہی تھا کہ میں نے ان کی ہنسی کو اس قدر بُرا منایا کہ اس کا اثر اب تک میری طبیعت پر رہا اور محو نہیں ہوا کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا۔اب جبکہ موجودہ فتنہ منافقین کا اُٹھا ہے تو میرے اس تاثر کی تصدیق ہوگئی ہے کہ اُس وقت کی مولوی علی محمد صاحب اجمیری اور میاں عبدالمنان صاحب کی ہنسی ایک نفرت ، بدگمانی اور حقارت کا بیج تھا حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے متعلق جو آج ایک مکروہ اور بدنما درخت کی شکل بن کر جماعت کے سامنے ظاہر ہو گیا ہے۔إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ خاکسار ڈاکٹر محمد منیر امرتسری غرض جو بات مجھے یاد تھی اُس کی تصدیق ڈاکٹر محمد منیر صاحب کی شہادت سے بھی ہوگئی اور مرز امحمد طاہر صاحب ابن عبد الحق صاحب کی شہادت سے بھی ہو گئی جو کہ زاہد کا بھانجا ہے۔۱۹۲۹ء میں مولوی محمد اسماعیل غزنوی نبیره ۱۸۸ حضرت خلیفہ اول اور بھانجا میاں عبدالوہاب وعبدالمنان نے ( جس کی خط و کتابت عبدالمنان کے کاغذوں میں جنہیں و اور مینٹل (ORIENTAL) کمپنی میں جس کا وہ پریذیڈنٹ بنایا گیا تھا چھوڑ کر چلا گیا تھا مل گئی ہے ) میاں عبد السلام وعبد الوہاب سے مل کر ایک میٹنگ کی اور اس میں بقول ایک معتبر شاہد کے خلافت ثانیہ کے خلاف جھوٹے الزام لگانے کی سکیم بنائی۔مجھے وقت پر یہ خبر مل گئی اور