خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 400 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 400

خلافة على منهاج النبوة ۴۰۰ جلد دوم میں نے شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی اور درد صاحب مرحوم کو مقر ر کیا کہ وہ مخبر کے ساتھ مل کر خفیہ طور پر ان کی سکیم سنیں۔چنانچہ عرفانی صاحب کی شہادت ہے کہ ان لوگوں نے آپس میں باتیں کیں کہ جتنے مالی الزام خلیفہ ثانی پر لگائے گئے ہیں ان میں سے کوئی بھی کارگر ثابت نہیں ہوا اور نہ ان کا کوئی ثبوت ملتا ہے اس لئے اب ان پر اخلاقی الزام لگانے چاہئیں۔مخبر کا بیان ہے کہ اخلاقی الزام کی تشریح بھی انہوں نے کی تھی کہ مولوی عبد السلام صاحب کی ایک بیوی جو حضرت مفتی محمد صادق صاحب کی لڑکی تھیں اور اپنے والد کی طرف سے کئی دفعہ دعا کے خط لے کر میرے پاس آیا کرتی تھیں ان کو بھیجا جائے جب ان کے لئے خلیفہ ثانی دروازہ کھول دیں تو باقی پارٹی کمرہ میں گھس جائے اور شور مچادے کہ ہم نے ان کو ایک غیر محرم عورت کے ساتھ دیکھا ہے اور تمام لوگوں کو کمرہ میں اکٹھا کر لیں۔ہم اس مخبر کی روایت کی قطعی تصدیق نہیں کر سکتے کیونکہ وہ ایک راوی ہے ہاں صرف شیخ یعقوب علی صاحب کی گواہی کی تصدیق کر سکتے ہیں کیونکہ اس کے ایک وہ بھی راوی ہیں اور دوسرا راوی مخبر بھی ہے اس پارٹی کے ممبر جن کی سازش شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی نے سنی۔شیخ صاحب کے بیان کے مطابق میاں عبد السلام صاحب ، میاں عبدالوہاب صاحب اور مولوی محمد اسماعیل صاحب غزنوی تھے۔۱۹۳۰ء میں میر محمد اسحق صاحب نے مجھ سے ذکر کیا کہ میاں منان کہتے ہیں کہ ہمارے خاندان کو گرانے کی کوشش کی جاتی ہے اور ہماری جائیداد کو نقصان پہنچایا جاتا ہے۔ابھی وہ ہزاروں آدمی زندہ ہے جو قادیان میں جانے والا ہے انہوں نے حضرت خلیفہ اول کا کچا مکان دیکھا ہوا ہے اس کے مقابلہ میں حضرت صاحب نے ہم کو ورثہ میں پانچ گاؤں اور قادیان کا شہر دیا تھا گویا حضرت خلیفہ اول کی جائیداد ہماری جائیداد کا ہیں ہزارواں حصہ بھی نہ تھی اب کیا وہ ہیں ہزارواں حصہ جائیداد بھی ہم نے کھانی تھی۔۱۹۳۰ء میں چوہدری ابوالہاشم صاحب نے مجھے اپنی مرحومہ بیٹی کا جو مولوی عبد السلام صاحب کی بیوی تھیں ایک خط بھجوایا جو بنگالی میں تھا اور اس میں لکھا تھا کہ خاندان حضرت خلیفہ اول میں ہر وقت خلافت ثانیہ سے بغاوت کی باتیں ہوتی رہتی ہیں مگر افسوس ہے کہ وہ