خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 398
خلافة على منهاج النبوة ۳۹۸ جلد دوم کرتے تھے مجھے بتایا کہ انہوں نے ان دونوں کو ان کے مکان کے سامنے کھڑا دیکھا تھا اور انہوں نے ایک خط زاہد کی طرف ایک لڑکے کے ہاتھ بھجوایا ( زاہد مولوی عبد الکریم مباہلہ والے کا چھوٹا بھائی تھا) اور اس لڑکے نے مجھے لا کر دے دیا اسی طرح اس کی تردید مرزا عبدالحق صاحب امیر جماعت سابق صوبہ پنجاب کے ایک لڑکے مرزا محمد طاہر کے خط سے بھی ہوتی ہے جو زاہد کے بھانجے ہیں اور جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ : وو میاں عبدالوہاب اور زاہد کے آپس میں فتنہ مستریاں‘ سے پہلے بڑے گہرے تعلقات تھے ( میں بھی اس کا ذاتی گواہ ہوں۔زاہد چونکہ چھوٹا ہوتا تھا ہمارے گھر میں آیا کرتا تھا میری بیویاں اُس سے پردہ نہیں کرتیں تھیں اُس کی بہن بھی ہمارے گھر میں رہتی تھی اس لئے مجھے ذاتی طور پر علم ہے کہ زاہد سے میاں عبدالوہاب کے بڑے گہرے تعلقات تھے اور میاں عبدالوہاب اس سے اکثر ملتا رہتا تھا ) پھر مرزا محمد طاہر لکھتے ہیں کہ :۔زاہد سے میاں عبدالوہاب نے حضور کے خلاف باتیں کی تھیں جس پر زاہد بھی حضور کے خلاف ہو گیا۔زاہد کو اب شکایت یہ تھی کہ جس آدمی نے پہلے حضور کے خلاف باتیں کی تھیں اور فتنہ کی اصل جڑھ تھی وہ تو حضرت خلیفہ اول کا لڑکا ہونے کی وجہ سے بچ گیا اور وہ پھنس گیا۔اسی طرح ڈاکٹر محمد منیر صاحب سابق امیر جماعت احمد یہ امرتسر کی شہادت سے بھی ظاہر ہے کہ ۱۹۲۸ء۔۱۹۲۷ء میں میاں عبد المنان اور مولوی علی محمد اجمیری ان سازشوں میں شریک تھے چنانچہ وہ لکھتے ہیں۔ڈاکٹر محمد منیر صاحب کی شہادت غالبا ۱۹۲۷ء یا ۱۹۲۸ ء میں جب مباہلہ روالوں کا فتنہ زور پر تھا ایک دن اس سلسلہ میں مباہلہ والوں نے ایک اشتہار حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ کی ہجو میں بڑی موٹی موٹی سرخیوں کے ساتھ شائع کیا جس میں حضور کے اخلاق پر ذاتی حملے کئے ہوئے تھے۔اس دن مولوی علی محمد صاحب اجمیری اور میاں عبد المنان صاحب عمر اور میں ( راقم ) اکٹھے جا ر ہے