خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 389
خلافة على منهاج النبوة ۳۸۹ جلد دوم 9966 تھیں اور قادیان میں بڑا لمبا عرصہ والدہ کے پاس رہتی تھیں انہوں نے ہم سے ملنا جلنا چھوڑ دیا۔چنانچہ ۱۹۰۹ ء یا ۱۹۱۱ء میں ہم ایک دفعہ دلی گئے تو حضرت اماں جان) بھی ساتھ تھیں چونکہ انہیں اپنی خالہ سے بڑی محبت تھی وہ اپنی اماں کی بھاوج کے ہاں ٹھہریں۔اُن کو سارے’ بھابی جان ” بھابی جان کہتے تھے۔اب ان کے بچے کراچی میں ہیں ان کے گھر میں ہی ہم جا کر ٹھہرتے تھے۔اُس وقت بھی ان کے گھر میں ہی ٹھہرے بلکہ ان کا ایک لطیفہ بھی مشہور ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۹۱ء میں دلی گئے تو آپ کے خلاف بڑا جلسہ ہوا اور شور پڑا۔لوگوں نے کہا کہ اس کو قتل کر دو۔مولویوں نے وعظ کیا کہ جو اس کو قتل کر دے گا وہ جنتی ہو گا۔ہماری وہ بھابی بڑی مخالف تھیں مگر آخر رشتہ دار تھیں۔ایک دن ان کی نو کر آئی اور آکر کہنے لگی کہ بی بی دعا کرو میرا بچہ بچ جائے وہ صبح چھری تیز کر رہا تھا۔کوئی قادیان سے آیا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کرتا ہے۔اُس کو مارنے گیا ہے وہ کہنے لگیں کمبخت ! چپ کر وہ تو میری بھانجی کا خاوند ہے۔مگر بہر حال ان کے گھر میں خالہ بھی ٹھہری ہوئی تھیں۔اماں جان نے پرانی محبت کی وجہ سے ان سے خواہش کی کہ مجھے ملا دو۔بھابی جان نے انکار کر دیا کہ وہ تو کہتی ہیں میں اس کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی۔پھر ہماری ایک اور بہن تھی انکی بیٹی بعد میں حکیم اجمل خان صاحب مرحوم کے بھائی سے بیاہی گئی تھیں۔حضرت ( اماں جان ) نے ان سے کہا کہ وہ چھوٹی بچی تھیں ان کو تو ان باتوں کا پتہ نہیں تھا انہوں نے پردہ اٹھا کے کہا کہ وہ مصلے پر بیٹھی دعا کر رہی ہیں دیکھ لو۔اماں جان نے جا کر جھانکا تو اُسی وقت انہوں نے کھڑکی کھولی اور ہمسایہ میں چلی گئیں اور وہاں سے ڈولی منگا کر کسی اور رشتہ دار کے پاس چلی گئیں۔غرض اتنا ان کے اندر بغض تھا کہ انہوں نے ہم سے ملنا بالکل چھوڑ دیا اُن کے رشتہ داراب بھی کراچی میں ہیں۔لاہور میں بھی لوہارو خاندان کے افراد ہیں۔نوابزادہ اعتزاز الدین جو پاکستان میں انسپکٹر جنرل پولیس تھے وہ بھی نواب لوہارو کے بیٹے تھے اور بیٹے بھی ہیں بعض ان کی اولاد میں سے فوج میں کرنیل ہیں۔ان کے ایک بھائی صمصام مرزا لاہور میں ہیں۔اِن لوگوں سے جب بھی بات کرو وہ ہم پر ہنستے ہیں