خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 388 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 388

خلافة على منهاج النبوة ۳۸۸ جلد دوم اُس نے خود ز ہر نکال کر کھا لیا تھا مگر غلط نہی ان لوگوں کے دماغ میں ایسی جاگزین ہو گئی تھی کہ میرے رشتہ کے ایک ماموں حافظ عبدالمجید صاحب سب انسپکٹر پولیس جن کو محمد امین بھی کہتے تھے ۱۹۳۶ ء یا ۱۹۳۷ء میں مجھے ملنے کیلئے قادیان آئے اور باتوں باتوں میں کہنے لگے کہ ہمارے ایک بھائی کو حضرت مولوی نورالدین صاحب نے زہر دے کر مروا دیا تھا۔میں نے غصہ سے اُن کو کہا کہ میں حضرت خلیفہ اول کے متعلق ایسی کوئی بات نہیں سن سکتا۔اس پر وہ بھی غصہ سے اُٹھ کھڑے ہوئے اور کہا کہ میں بھی اپنے بھائی کے واقعہ کو بھول نہیں سکتا اور چلے گئے۔اس واقعہ کو اور اہمیت اس طرح مل گئی کہ ہمارے نھیال کا رشتہ نواب صاحب لوہارو سے تھا۔یہ اتفاق کی بات ہے کہ اُس وقت نواب صاحب مالیر کوٹلہ کم سن تھے اور گورنمنٹ نے اُن کا نگران نواب صاحب لوہارو کو مقرر کر کے بھیجا ہوا تھا جس وقت یہ کبیر کا واقعہ ہوا اُس وقت نواب صاحب لوہارو کو ٹلہ میں تھے پہلے تو کسی کو پتہ نہیں تھا کہ یہ بھی ان کے رشتہ دار ہیں جس طرح نواب صاحب لوہا ر و سمی به فرخ مرزا میرے ماموں تھے۔وہ کبیر کے بھی ماموں تھے مگر وہ چونکہ معمولی کمپونڈر اور طالب علم کی حیثیت میں گیا تھا پہلے تو پتہ نہ لگا۔اس کے مرنے پر جب ان کو پتہ لگا کہ ایک لڑکے نے خود کشی کی ہے اور وہ دلی کا ہے تو انہوں نے کرید کی اور پتہ لگا کہ یہ تو میرا بھانجا ہے وہ چونکہ حاکم تھے انہوں نے فوراً کارروائی کی کہ اس کا پیٹ چاک کیا جائے اور زہر نکالا جائے اور یہ دیکھا جائے کہ یہ زہرا اتفاقی استعمال ہوا ہے یا جان بوجھ کر دیا گیا ہے۔نواب محمد علی خان صاحب جونواب مالیرکوٹلہ کے ( جو اُس وقت بچہ تھے ) ماموں تھے اور بعد میں میرے بہنوئی ہوئے۔( حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بڑی بیٹی ان سے بیاہی گئیں ) ان کو چونکہ قرآن پڑھانے کیلئے حضرت خلیفہ اول گئے تھے اور ان کا ریاست میں رسوخ تھا اُنہوں نے فوراً کوشش کر کے راتوں رات کبیر کو دفن کرا دیا اور اس طرح اس فتنہ کو دفع کیا۔بیٹے کا مر جانا ماں کیلئے بڑے صدمہ کا موجب ہوتا ہے مگر یہ بغض اتنا لمبا ہو گیا کہ حضرت اماں جان ) کی خالہ جو اکثر قادیان آتی رہتی