خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 387
خلافة على منهاج النبوة ۳۸۷ جلد دوم مرحوم اور پیر منظور محمد صاحب مرحوم قاعدہ میسر نا القرآن کے موجد حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور ان کے خاندان سے والہانہ عشق رکھتے تھے مگر ایسا نہیں ہوا۔اس بغض کی بھی کچھ دُنیوی وجو ہات تھیں۔اوّل یہ کہ حضرت مولوی نورالدین صاحب کے ہاں اس بیوی سے بھی دیر تک کوئی نرینہ اولاد نہ ہوئی۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جن کو شوق تھا کہ حضرت مولوی صاحب کے ہاں نرینہ اولاد ہو جائے ۱۸۹۶ء میں جب کہ حضرت مولوی نورالدین صاحب کو آپ نے نواب محمد علی خان صاحب مرحوم کو قرآن پڑھانے کے لئے مالیر کوٹلہ بھجوایا تھا مولوی صاحب کے متعلق نواب صاحب مرحوم کو ایک خط لکھا کہ حضرت مولوی نور الدین صاحب کی مالیر کوٹلہ کی ایک سید خاندان کی لڑکی سے شادی کا انتظام کریں۔گو یہ انتظام تو بعد میں رُک گیا مگر ایک خار دل میں بیٹھ گیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپ کی دوسری بیوی پر ایک اور سوکن لانے کی کوشش کی ہے۔دوسری وجہ اس بغض کو بڑھانے کی ایک اور پیدا ہوگئی اور وہ یہ تھی کہ میاں عبد السلام ، عبد الوہاب اور عبدالمنان کی والدہ نے اپنے خاندان کی ایک لڑکی فاخرہ نام کی پالی ہوئی تھی ادھر حضرت ( اماں جان ) نے اپنے وطن سے دُوری کی وجہ سے اپنی خالہ کے ایک بیٹے سید کبیر احمد کو تعلیم کیلئے قادیان بلایا ہوا تھا۔جب حضرت خلیفہ اول مالیر کوٹلہ گئے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فیصلہ کیا کہ اس بچے کو طب کی تعلیم دلوائی جائے اور اس کو بھی ان کے ساتھ ہی تعلیم کے سلسلہ میں مالیر کوٹلہ بھیج دیا گیا۔کبیر احمد کا بیان تھا کہ حضرت خلیفہ اول کی دوسری بیوی نے اس سے وعدہ کیا تھا کہ وہ فاخرہ کا اس سے بیاہ کر دیں گی لیکن بعض ایسے حالات کی وجہ سے جن کا حقیقی علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے سید کبیر احمد نے جو ہمارے خالہ زاد ماموں تھے زہر کھا کر خود کشی کر لی اور سارے کو ٹلہ اور دہلی میں یہ مشہور ہو گیا کہ اس خود کشی کی وجہ حضرت خلیفہ اول کی دوسری بیوی تھیں۔چنانچہ آج تک بھی کچھ لوگ جو نواب لوہارو کے خاندان کے یا ہمارے ننھیال کے زندہ ہیں یہی الزام لگاتے چلے آتے ہیں کہ کبیر احمد کونَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَلِکَ اپنے خاندان کی بدنامی کے ڈر سے حضرت مولوی نور الدین صاحب نے زہر دے کر مروا دیا تھا۔حالانکہ واقعہ یہ تھا کہ چونکہ وہ آپ سے طب پڑھتا تھا اور دوائیں اس کے قبضہ میں تھیں آ