خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 368 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 368

خلافة على منهاج النبوة ۳۶۸ جلد دوم جماعت کے دوسرے دوستوں نے بھی اس تحریک میں حصہ لیا ہے اور اس وقت تک ۱۸۰۰ پونڈ سے زیادہ رقم جمع ہو چکی ہے اور انگلینڈ میں ایک احمدی دوست کے ذریعہ پریس کیلئے آرڈر دے دیا گیا ہے۔یہ شخص جس کے پاس ہمارا مبلغ گیا کسی زمانہ میں احمدیت کا شدید مخالف ہوا کرتا تھا۔اتنا سخت مخالف کہ ایک دفعہ کوئی احمدی اس کے ساتھ دریا کے کنارے جا رہا تھا کہ اُس احمدی نے اُسے تبلیغ شروع کر دی۔وہ دریا کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگا کہ دیکھو! یہ دریا ادھر سے اُدھر بہہ رہا ہے اگر یہ دریا یک دم اپنا رُخ بدل لے اور نیچے سے اوپر کی طرف اُلٹا بہنا شروع کر دے تو یہ ممکن ہے لیکن میرا احمدی ہونا ناممکن ہے۔مگر کچھ دنوں کے بعد ایسا اتفاق ہوا کہ کوئی بڑا عالم فاضل نہیں بلکہ ایک لوکل افریقین احمدی اُس سے ملا اور چند دن اُس سے باتیں کیں تو وہ احمدی ہو گیا۔پھر اللہ تعالیٰ نے بھی اُس کی مدد کی اور اُس کی مالی حالت پہلے سے بہت اچھی ہو گئی۔اب دیکھ لو ان لوگوں کے اندر جو اسلام اور احمدیت کیلئے غیرت پیدا ہوئی ہے وہ محض احمدیت کی برکت کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔دنیا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر الزام لگاتی تھی کہ آپ عیسائیت کے ایجنٹ ہیں مگر خدا تعالیٰ نے ثابت کر دیا کہ آپ عیسائیت کے ایجنٹ نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے ایجنٹ ہیں۔اگر آپ مخالفوں کے قول کے مطابق عیسائیت کے ایجنٹ تھے تو عیسائیوں کو مسلمان بنانے کے کیا معنی۔اگر آپ عیسائیوں کے ایجنٹ ہوتے تو آپ مسلمانوں کو عیسائی بناتے نہ کہ عیسائیوں کو مسلمان۔کیونکہ کوئی شخص اپنے دشمن کی تائید کیلئے تیار نہیں ہوتا۔جو شخص عیسائیت کی جڑوں پر تبر رکھتا ہے عیسائی لوگ اس کی مدد کیوں کریں گے۔حضرت مسیح ناصری سے بھی بالکل اس طرح کا واقعہ ہوا تھا آپ پر یہودیوں نے الزام لگایا کہ انہیں بعل بُت سکھاتا ہے۔اس پر حضرت مسیح علیہ السلام نے انہیں جواب دیا کہ میں بعل بُت کے خلاف تعلیم دیتا ہوں اور کہتا ہوں کہ ایک خدا کی پرستش کرو۔پھر تم کیسے کہہ سکتے ہو کہ بعل مجھے سکھاتا ہے اور میری تائید کرتا ہے۔اب دیکھو یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کتنا بڑا نشان ہے کہ آپ کی زندگی میں تو مخالف کہتے رہے کہ آپ عیسائیت کے ایجنٹ ہیں