خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 369
خلافة على منهاج النبوة ۳۶۹ جلد دوم ہمارا لیکن آپ کی وفات کے بعد آپ کے ماننے والی غریب جماعت کو اس نے یہ توفیق دی کہ وہ عیسائیت کو شکست دے۔اس نے چندے دیئے اور تبلیغ کا جال پھیلا دیا۔اگر وہ چندے نہ دیتے اور ہمارے مبلغ دنیا کے مختلف ممالک میں نہ جاتے تو یہ لوگ جو احمدیت میں داخل ہیں کہاں سے آتے اور عیسائیت کا کام کیسے بند ہوتا۔جیسا کہ میں نے پہلے بتایا ہے کہ انہی چندوں کی وجہ سے یہ حالت ہوگئی کہ عیسائیوں کو ایک ملک کے متعلق یہ کہنا پڑا کہ یہ خوشکن امید کہ یہ ملک عیسائی ہو جائے گا پوری نہیں ہو سکتی۔اب غالباً اسلام عیسائیت کی جگہ اس ملک میں ترقی کر رہا ہے۔احمدی جماعت کی طرف سے سکول جاری ہور ہے ہیں۔کالج قائم کئے جار ہے ہیں۔مساجد تعمیر ہو رہی ہیں چنانچہ گولڈ کوسٹ کے علاقہ میں کماسی مقام پر سیکنڈری سکول قائم ہے۔کہتے تو اسے کالج ہیں وہاں صرف ایف اے تک تعلیم دی جاتی ہے۔کئی کئی میل سے لوگ اپنے بچے یہاں بھیجتے ہیں۔ان لوگوں کو دین پڑھنے کا شوق ہے۔پچھلے سال ایک لڑکا یہاں تعلیم حاصل کرنے کیلئے آیا۔اس کے متعلق وہاں کے مبلغ نے لکھا کہ اس کی والدہ میرے پاس آئی اور کہا میرے اس بچے کو ربوہ میں رکھنے کا انتظام کریں تا کہ یہ وہاں تعلیم حاصل کر سکے۔مبلغ نے کہا بی بی! تو بیوہ عورت ہے اتنا بوجھ کیوں اُٹھاتی ہے یہ رقم تیرے کام آئے گی۔شاید تو خیال کرتی ہو کہ ربوہ میں تیرا لڑکا بی اے یا ایم اے ہو جائے گا وہاں تو وہ لوگ دینیات پڑھاتے ہیں۔اس پر وہ عورت کہنے لگی میں تو اپنے لڑکے کو ربوہ بھیجتی ہی اس لئے ہوں کہ وہ وہاں جا کر دین کی تعلیم حاصل کرے آپ اسے وہاں بھیجے خرچ میں دوں گی۔چنانچہ وہ لڑکا یہاں تعلیم حاصل کر رہا ہے۔تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد واپس اپنے ملک جائیگا تو وہاں کا مبلغ بن جائے گا۔اسی طرح ایسٹ افریقہ سے امری عبیدی آئے تھے۔وہ عیسائیوں میں سے احمدی ہوئے ہیں۔حبشیوں کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ کم عقل ہوتے ہیں لیکن وہ شخص اتنا ذہین ہے کہ اس نے اس بات کو غلط ثابت کر دیا ہے۔کراچی میں پچھلے دنوں نوجوانوں کی ایک انجمن کی کانفرنس ہوئی تھی۔اس میں انہوں نے ہمیں نہیں بلایا تھا لیکن ہم نے خود بعض لڑکے وہاں بھیج دیئے تھے ان میں سے ایک امری عبیدی بھی تھے بعد میں وہاں سے رپورٹ آئی کہ وہ ہر بات میں امری عبیدی سے