خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 358 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 358

خلافة على منهاج النبوة ۳۵۸ جلد دوم تھی غلط اندازہ لگایا تھا وہ خندق سے گزر کر سیدھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمے کا رُخ کرتے تھے جس کی وجہ سے مسلمان مرد عورتیں اور بچے سب ملکر ان پر حملہ کرتے اور ایسا دیوانہ وار مقابلہ کرتے کہ کفار کو بھاگ جانے پر مجبور کر دیتے۔وہ کہتا ہے کہ اگر کفار یہ غلطی نہ کرتے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمے کی بجائے کسی اور جہت میں حملہ کرتے تو وہ کامیاب ہوتے۔لیکن وہ سیدھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمے کا رُخ کرتے تھے اور مسلمانوں کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہایت محبت تھی وہ برداشت نہیں کر سکتے تھے کہ دشمن آپ کی ذات پر حملہ آور ہو اس لئے وہ بے جگری سے حملہ کرتے اور کفار کا منہ توڑ دیتے۔ان کے اندر شیر کی سی طاقت پیدا ہو جاتی تھی اور وہ اپنی جان کی کوئی پرواہ نہیں کرتے تھے۔یہ وہ سچی محبت تھی جو صحابہ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تھی۔آپ لوگ بھی ان جیسی محبت اپنے اندر پیدا کریں۔جب آپ نے انصار کا نام قبول کیا ہے تو ان جیسی محبت بھی پیدا کریں۔آپ کے نام کی نسبت خدا تعالیٰ سے ہے اور خدا تعالیٰ ہمیشہ رہنے والا ہے اس لئے تمہیں بھی چاہیے کہ خلافت کے ساتھ ساتھ انصار کے نام کو ہمیشہ کیلئے قائم رکھو اور ہمیشہ دین کی خدمت میں لگے رہو کیونکہ اگر خلافت قائم رہے گی تو اس کو انصار کی بھی ضرورت ہو گی۔خدام کی بھی ضرورت ہوگی اور اطفال کی بھی ضرورت ہوگی ورنہ اکیلا آدمی کوئی کام نہیں کر سکتا۔اکیلا نبی بھی کوئی کام نہیں کر سکتا۔دیکھو حضرت مسیح علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے حواری دئے ہوئے تھے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اللہ تعالیٰ نے صحابہ کی جماعت دی۔اسی طرح اگر خلافت قائم رہے گی تو ضروری ہے کہ اطفال الاحمدیہ ، خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ بھی قائم رہیں۔اور جب یہ ساری تنظیمیں قائم رہیں گی تو خلافت بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے قائم رہے گی کیونکہ جب دنیا دیکھے گی کہ جماعت کے لاکھوں لاکھ آدمی خلافت کیلئے جان دینے پر تیار ہیں تو جیسا کہ میور کے قول کے مطابق جنگ احزاب کے موقع پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمہ پر حملہ کرنے کی وجہ سے حملہ آور بھاگ جانے پر مجبور ہو جاتے تھے اسی طرح دشمن ادھر رُخ کرنے کی جرات نہیں کریگا۔وہ سمجھے گا کہ اس کیلئے لاکھوں اطفال ، خدام اور انصار جانیں