خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 357
خلافة على منهاج النبوة ۳۵۷ جلد دوم بھی تباہ ہو جائے گی کیونکہ یہ چیز خدا تعالیٰ نے اپنے قبضے میں رکھی ہوئی ہے اور جو خدا تعالیٰ کے مال کو اپنے قبضہ میں لینا چاہتا ہے وہ چاہے کسی نبی کی اولاد ہو یا کسی خلیفہ کی وہ تباہ و برباد ہو جائے گا کیونکہ خدا تعالیٰ کے گھر میں چوری نہیں ہو سکتی چوری ادنیٰ لوگوں کے گھروں میں ہوتی ہے اور قرآن کریم کہتا ہے۔وعد الله الذینَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحْتِ ليَسْتَخْلِفَتَهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن تباهیم و کہ مومنوں سے خدا تعالیٰ نے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ انہیں اسی طرح خلیفہ بنائے گا جیسے اس نے ان سے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنایا۔گو یا خلافت خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں رکھی ہے اور اس نے خود دینی ہے۔جو ا سے لینا چاہتا ہے چاہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا بیٹا ہو یا حضرت خلیفۃ اسیح الاوّل کا وہ یقیناً سزا پائے گا۔پس یہ مت سمجھو کہ یہ فتنہ جماعت کو کوئی نقصان پہنچا سکتا ہے لیکن پھر بھی تمہارا یہ فرض ہے کہ تم اس کا مقابلہ کرو اور اس سلسلہ احمدیہ کو اس سے بچاؤ۔دیکھو اللہ تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ سے وعدہ کیا تھا کہ واللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ وہ آپ کو لوگوں کے حملوں سے بچائے گا اور اللہ تعالیٰ کے وعدہ سے زیادہ سچا اور کس کا وعدہ ہو سکتا ہے مگر کیا صحابہ نے کبھی آپ کی حفاظت کا خیال چھوڑا ؟ بلکہ صحابہ نے ہر موقع پر آپ کی حفاظت کی۔ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر سے باہر ہتھیاروں کی آواز سنی تو آپ باہر نکلے اور دریافت کیا کہ یہ کیسی آواز ہے؟ صحابہ نے عرض کیا يَا رَسُولَ اللَّهِ ! ہم انصار ہیں۔چونکہ ارد گرد دشمن جمع ہے اس لئے ہم ہتھیار لگا کر آپ کا پہرہ دینے آئے ہیں۔اسی طرح جنگ احزاب میں جب دشمن حملہ کرتا تھا تو وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمہ کی طرف جا تا تھا۔آپ کے ساتھ اُس وقت صرف سات سو صحابہ تھے کیونکہ پانچ سو صحابہ کو آپ نے عورتوں کی حفاظت کے لئے مقرر کر دیا تھا اور دشمن کی تعداد اُس وقت سولہ ہزار سے زیادہ تھی۔لیکن اس جنگ میں مسلمانوں کو فتح ہوئی اور دشمن ناکام و نامراد رہا۔میور جیسا دشمن اسلام لکھتا ہے کہ اس جنگ میں مسلمانوں کو فتح اور کفار کے شکست کھانے کی یہ وجہ تھی کہ کفار نے مسلمانوں کی اس محبت کا جو انہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے