خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 359
خلافة على منهاج النبوة ۳۵۹ جلد دوم دینے کیلئے تیار ہیں اس لئے اگر اس نے حملہ کیا تو وہ تباہ و برباد ہو جائے گا۔غرض دشمن کسی رنگ میں بھی آئے جماعت اس سے دھوکا نہیں کھائے گی کسی شاعر نے کہا ہے۔بہر رنگے کہ خواہی جامه می پوش من انداز قدت را ے شناسم کہ تو کسی رنگ کا کپڑا پہن کر آ جائے ، تو کوئی بھیس بدل لے، میں تیرے دھوکا میں نہیں آ سکتا کیونکہ میں تیرا قد پہچانتا ہوں۔اسی طرح چاہے خلافت کا دشمن حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل کی اولاد کی شکل میں آئے اور چاہے وہ کسی بڑے اور مقرب صحابی کی اولاد کی شکل میں آئے ایک مخلص اسے دیکھ کر یہی کہے گا کہ بہر رنگے کہ خواہی جامعه می پوش من انداز قدت را می شناسم یعنی تو کسی رنگ میں بھی آ اور کسی بھیس میں بھی آ۔میں تیرے دھوکا میں نہیں آسکتا کیونکہ میں تیری چال اور قد کو پہچانتا ہوں۔تو چاہے مولوی محمد علی صاحب کا بحبہ پہن لے ، چاہے احمدیہ انجمن اشاعت اسلام کا جبہ پہن لے یا حضرت خلیفہ امسیح الاوّل کی اولاد کا جبہ پہن لے میں تمہیں پہچان لوں گا اور تیرے دھوکا میں نہیں آؤں گا۔مجھے راولپنڈی کے ایک خادم نے ایک دفعہ لکھا تھا کہ شروع شروع میں اللہ رکھا میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ مری کے امیر کے نام مجھے ایک تعارفی خط لکھ دو۔میں نے کہا میں کیوں لکھوں۔مری جا کر پوچھ لو کہ وہاں کی جماعت کا کون امیر ہے۔مجھے اُس وقت فوراً خیال آیا کہ یہ کوئی منافق ہے چنانچہ میں نے لاحول پڑھنا شروع کر دیا اور آدھ گھنٹے تک پڑھتا رہا اور سمجھا کہ شاید مجھ میں بھی کوئی نقص ہے جس کی وجہ سے یہ منافق میرے پاس آیا ہے۔تو احمدی عقلمند ہوتے ہیں وہ منافقوں کے فریب میں نہیں آتے کوئی کمزور احمدی ان کے فریب میں آجائے تو اور بات ہے ورنہ اکثر احمدی انہیں خوب جانتے ہیں۔اب انہوں نے لاہور میں اشتہارات چھاپنے شروع کئے ہیں۔جب مجھے بعض لوگوں نے یہ اطلاع دی تو میں نے کہا گھبراؤ نہیں ، پیسے ختم ہو جائیں گے تو خود بخو داشتہارات بند