خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 344 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 344

خلافة على منهاج النبوة ۳۴۴ جلد دوم پھر جب میں حج پر گیا تو اُس وقت بھی میں نے آپ کی طرف سے قربانی کی تھی اور اب تک ہر عید کے موقع پر آپ کی طرف سے قربانی کرتا چلا آیا ہوں۔غرض ہمارے دل میں حضرت خلیفہ امسیح الاوّل کی بڑی قدر اور عظمت ہے لیکن آپ کی اولا د نے جو نمونہ دکھایا وہ تمہارے سامنے ہے۔اس کے مقابلہ میں تم حضرت مسیح علیہ السلام کے ماننے والوں کو دیکھو کہ وہ آج تک آپ کی خلافت کو سنبھالے چلے آتے ہیں ہم تو اس مسیح کے صحابہ اور انصار ہیں جس کو مسیح ناصری پر فضیلت دی گئی ہے مگر ہم جو افضل باپ کے روحانی بیٹے ہیں ہم میں سے بعض لوگ چند روپوں کی لالچ میں آگئے۔شاید اس طرح حضرت مسیح علیہ السلام سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یہ مماثلت بھی پوری ہوئی تھی کہ جیسے آپ کے ایک حواری یہودا اسکر یوطی نے رومیوں سے تمہیں روپے لے کر آپ کو بیچ دیا تھا اور اس طرح اس مسیح کی جماعت میں بھی بعض ایسے لوگ پیدا ہونے تھے جنہوں نے پیغامیوں سے مدد لے کر جماعت میں فتنہ کھڑا کرنا تھا۔لیکن ہمیں عیسائیوں کے صرف عیب ہی نہیں دیکھنے چاہئیں بلکہ ان کی خوبیان بھی دیکھنی چاہئیں۔جہاں ان میں ہمیں یہ عیب نظر آتا ہے کہ ان میں سے ایک نے تمہیں روپے لے کر حضرت مسیح علیہ السلام کو بیچ دیا وہاں ان میں یہ خوبی بھی پائی جاتی ہے کہ آج تک جبکہ حضرت مسیح علیہ السلام پر دو ہزار سال کے قریب عرصہ گزر چکا ہے وہ آپ کی خلافت کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔چنانچہ آج جب میں نے اس بات پر غور کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ اس چیز کا وعدہ بھی حواریوں نے کیا تھا۔چنانچہ حضرت مسیح علیہ السلام نے جب کہا۔من انصاري إلى الله کہ خدا تعالیٰ کے رستہ میں میری کون مدد کرے گا۔تو حواریوں نے کہا۔نَحْنُ انصار الله۔ہم خدا تعالیٰ کے رستہ میں آپ کی مدد کریں گے۔انہوں نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا ہے اور اللہ تعالیٰ ہمیشہ قائم رہنے والا ہے۔پس اس کے معنی ہیں کہ ہم وہ انصار ہیں جن کو خدا تعالیٰ کی طرف نسبت دی گئی ہے اس لئے جب تک خدا تعالیٰ زندہ ہے اُس وقت تک ہم بھی اس کی مدد کرتے رہیں گے۔چنانچہ دیکھ لو حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات پر تقریباً دو ہزار سال کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن عیسائی لوگ برابر عیسائیت کی تبلیغ کرتے چلے جارہے ہیں اور اب تک ان میں خلافت قائم چلی آتی ہے۔