خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 345
خلافة على منهاج النبوة ۳۴۵ جلد دوم اب بھی ہماری زیادہ تر ٹکر عیسائیوں سے ہی ہو رہی ہے جو مسیح علیہ السلام کے متبع اور ان کے ماننے والے ہیں اور جن کا نام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال رکھتے ہوئے فرمایا کہ خدا تعالیٰ کے سارے نبی اس فتنہ کی خبر دیتے چلے آئے ہیں۔غرض وہ مسیح ناصری جن کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ خدا تعالیٰ نے مجھے ان پر فضیلت عطا فرمائی ہے ان کے انصار نے اتنا جذبہ اخلاص دکھایا کہ انہوں نے دو ہزار سال تک آپ کی خلافت کو مٹنے نہیں دیا کیونکہ انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ اگر مسیح علیہ السلام کی خلافت مٹی تو مسیح علیہ السلام کا خود اپنا نام بھی دنیا سے مٹ جائے گا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ شروع عیسائیت میں حضرت مسیح علیہ السلام کے ایک حواری نے آپ کو میں روپے کے بدلہ میں دشمنوں کے ہاتھ بیچ دیا تھا لیکن اب عیسائیت میں وہ لوگ پائے جاتے ہیں جو مسیحیت کی اشاعت اور حضرت مسیح علیہ السلام کو خدا کا بیٹا منوانے کے لئے کروڑوں کروڑ روپیہ دیتے ہیں۔اسی طرح اس بات میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ نے اپنے زمانہ میں بڑی قربانی کی ہے لیکن آپ کی وفات پر ابھی صرف ۴۸ سال ہی ہوئے ہیں کہ جماعت میں سے بعض ڈانوا ڈول ہونے لگے ہیں اور پیغامیوں سے چند روپے لے کر ایمان کو بیچنے لگے ہیں۔حالانکہ ان میں سے بعض پر سلسلہ نے ہزار ہا روپے خرچ کئے ہیں۔میں پچھلے حسابات نکلوا رہا ہوں اور میں نے دفتر والوں سے کہا ہے کہ وہ بتائیں کہ صدرانجمن احمد یہ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان کی کتنی خدمت کی ہے اور حضرت خلیفہ امسیح الاوّل کے خاندان کی کتنی خدمت کی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو فوت ہوئے ۴۸ سال ہو چکے ہیں اور حضرت خلیفہ مسیح الاوّل کی وفات پر ۴۲ سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔گویا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا فاصلہ زیادہ ہے اور پھر آپ کی اولا دبھی زیادہ ہے۔لیکن اس کے باوجود میں نے حسابات نکلوائے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ صدر انجمن احمدیہ نے حضرت خلیفہ المسیح الاوّل کے خاندان کی نسبت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان پر کم خرچ کیا ہے لیکن پھر بھی حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل کی اولاد میں یہ لالچ پیدا ہوئی کہ خلافت بھی سنبھا لو یہ ہمارے باپ کا حق تھا جو ہمیں ملنا چاہیے