خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 340
خلافة على منهاج النبوة ۳۴۰ جلد دوم ہوئے آپ کا استقبال کیا طَلَعَ الْبَدْرُ عَلَيْنَا مِنْ ثَنِيَّةِ الْوِدَاع یعنی ہم لوگ کتنے خوش قسمت ہیں کہ جس موڑ سے مدینہ کے رہنے والے اپنے رشتہ داروں کو رخصت کیا کرتے تھے اس موڑ سے اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے بدر یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ظاہر کر دیا ہے پس ہمیں دوسرے لوگوں پر فضیلت حاصل ہے اس لئے کہ وہ تو اس جگہ جا کر اپنے رشتہ داروں اور عزیزوں کو رخصت کرتے ہیں لیکن ہم نے وہاں جا کر سب سے زیادہ محبوب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وصول کیا ہے۔پھر ان لوگوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد گھیرا ڈال لیا۔اور ان میں سے ہر شخص کی خواہش تھی کہ آپ اس کے گھر میں ٹھہر ہیں۔جس جس گلی میں سے آپ کی اونٹنی گزرتی تھی اس گلی کے مختلف خاندان اپنے گھروں کے آگے کھڑے ہوکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کرتے تھے اور کہتے تھے یا رَسُول اللہ ! یہ ہمارا گھر ہے جو آپ کی خدمت کیلئے حاضر ہے۔یا رسول ! آپ ہمارے پاس ہی ٹھہریں۔بعض لوگ جوش میں آگے بڑھتے اور آپ کی اونٹنی کی باگ پکڑ لیتے تا کہ آپ کو اپنے گھر میں اُتروا لیں۔مگر آپ ہر شخص کو یہی جواب دیتے تھے کہ میری اونٹنی کو چھوڑ دو یہ آج خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور ہے یہ وہیں کھڑی ہوگی جہاں خدا تعالیٰ کا منشا ہو گا۔آخر وہ ایک جگہ پر کھڑی ہوگئی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے قریب گھر کس کا ہے؟ حضرت ابوایوب انصاری نے فرمایا يَا رَسُولَ اللهِ! میرا گھر سب سے قریب ہے اور آپ کی خدمت کیلئے حاضر ہے۔حضرت ابوایوب کا مکان دو منزلہ تھا انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے اوپر کی منزل تجویز کی مگر آپ نے اس خیال سے کہ ملنے والوں کو تکلیف ہوگی نچلی منزل کو پسند فرمایا۔حضرت ابوایوب انصاری رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصرار پر مان تو گئے کہ آپ نچلی منزل میں ٹھہریں لیکن ساری رات میاں بیوی اس خیال سے جاگتے رہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے نیچے سورہے ہیں پھر وہ کس طرح اس بے ادبی کے مرتکب ہو سکتے ہیں کہ وہ چھت کے اوپر سوئیں۔اتفاقاً اُسی رات ان سے پانی کا ایک برتن گر گیا۔