خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 339 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 339

خلافة على منهاج النبوة ۳۳۹ جلد دوم تک چلا جائے ہم کو وہ سب لوگ پیارے لگتے ہیں کیونکہ ان کے ذریعہ ہم کسی نہ کسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہو جاتے ہیں۔محد ثین کو اس بات پر بڑا فخر ہوتا تھا کہ وہ تھوڑی سی سندات سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ گئے ہیں۔حضرت خلیفتہ المسح الا قول فرمایا کرتے تھے کہ میں گیارہ بارہ راویوں کے ساتھ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک جا پہنچتا ہوں۔آپ کو بعض ایسے اساتذہ مل گئے تھے جو آپ کو گیارہ بارہ راویوں کے بعد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا دیتے تھے۔اور آپ اس بات پر بڑا فخر کیا کرتے تھے۔اب دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع نے آپ کی صحابیت کو بارہ تیرہ درجوں تک پہنچا دیا ہے اور اس پر فخر کیا ہے تو آپ لوگ یا صحابی ہیں یا تابعی ہیں ابھی تبع تابعین کا وقت نہیں آیا۔ان دونوں در جوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو عزت بخشی ہے۔اس عزت میں کچھ اور لوگ بھی شریک ہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں انصار کا ذکر فرمایا ہے اور پھر ان کی قربانیاں بھی اللہ تعالیٰ کو بہت پسند تھیں۔چنانچہ جب ہم انصار کی تاریخ کو دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں نے ایسی قربانیاں کی ہیں کہ اگر آپ لوگ جو انصار اللہ ہیں ان کے نقش قدم پر چلیں تو یقیناً اسلام اور احمدیت دور دور تک پھیل جائے۔اور اتنی طاقت پکڑ لے کہ دنیا کی کوئی طاقت اس کے مقابل پر نہ ٹھہر سکے۔تاریخ میں لکھا ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو شہر کی تمام عورتیں اور بچے باہر نکل آئے۔وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے استقبال کیلئے جاتے ہوئے خوشی سے گاتے چلے جاتے تھے کہ طَلَعَ الْبَدْرُ عَلَيْنَا مِنْ ثَنِيَّةِ الْوِدَاع رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس جہت سے مدینہ میں داخل ہوئے وہی جہت تھی جہاں سے قافلے اپنے رشتہ داروں سے رخصت ہوا کرتے تھے اسی لئے انہوں نے اس موڑ کا نام ثنية الوداع رکھا ہوا تھا یعنی وہ موڑ جہاں سے قافلے رخصت ہوتے ہیں۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس موڑ سے مدینہ میں داخل ہوئے تو مدینہ کی عورتوں اور بچوں نے یہ گاتے