خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 19
خلافة على منهاج النبوة ۱۹ جلد دوم زندہ ہے وہ مرا نہیں صرف ڈرا ہے۔اس صورت میں تمہیں یاد رکھنا چاہئے کہ خلیفہ سے جماعت کو جو تعلق ہے وہ جماعت ہی کی بہتری اور بھلائی کا موجب ہے اور جو بھی خلیفہ ہو اس سے تعلق ضروری ہے۔پس اسلام اور احمدیت کی امانت کی حفاظت سب سے مقدم ہے اور جماعت کو تیار رہنا چاہیے کہ جب کبھی بھی خلفاء کی وفات ہو اُس وقت جو اسلام کی بہترین خدمت وہ کر سکتی ہے وہ یہی ہے کہ صحیح ترین انسان کو اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرنے اور اُس سے الہام پانے کے بعد جماعت کی راہنمائی کے لئے منتخب کیا جائے اور ساری جماعت اس پر متفق ہو جائے۔انتخاب خلافت سے بڑی آزمائش مسلمانوں کے لئے اور کوئی نہیں ہو سکتی۔یہ ایسی ہی ہے جیسے باریک دھار پر چلنا جس سے ذرا قدم لڑکھڑانے سے انسان دوزخ میں جا گرتا ہے۔اور ذرا سی احتیاط سے جنت میں پہنچ جاتا ہے۔پھر یہ ذمہ داری اس لئے بھی نہایت نازک ہے کہ اس کے متعلق خدا تعالیٰ کا الہام قلوب میں نازل ہوتا ہے۔الفاظ میں نازل نہیں ہوتا۔الفاظ میں جو الہام ہوا سے آسانی کے ساتھ سمجھا جا سکتا ہے لیکن قلوب میں نازل ہونے والے الہام کے متعلق ہو سکتا ہے کہ جو کچھ خیال کیا جائے وہ اصل الہام نہ ہو۔خلافت خدا تعالیٰ کا ایک بہت بڑا انعام ہے۔جب تک لوگ اس کے پانے کے قابل رہتے ہیں یہ انہیں حاصل رہتا ہے لیکن جب وہ اپنے آپ کو اس کے قابل نہیں رکھتے تو چھین لیا جاتا ہے۔قرآن کریم میں آتا ہے وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا اليخت لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ ! کہ یہ مومنوں اور عمل صالح کرنے والوں کے لئے انعام ہے۔اگر لوگ مومن ہو نگے اور عمل صالح کریں گے تو یہ انعام ملے گا ورنہ چھن جائے گا۔پس ہوسکتا ہے کہ ایک شخص جسے خلافت کے لئے منتخب کیا جائے اُس کا انتخاب صحیح الہام کے ماتحت نہ ہو بلکہ اپنی نفسی حالت کے ماتحت ہو اور وہ جماعت کو غلط راستہ پر لے جائے۔پس یا د رکھو کہ انتخاب خلافت سے بڑھ کر مشکل اور کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔باقی جس قدر ذمہ داریاں ہیں ان کے متعلق ضروری ہدایات الفاظ میں موجود ہیں لیکن اس کے لئے