خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 18
خلافة على منهاج النبوة ۱۸ جلد دوم انتخاب خلافت کی مشکل گھڑی ۱۹۳۰ء میں جب حضور کی وفات کی خبر مشہور ہوئی تو حضور نے جلسہ سالانہ کے موقع پر ۲۷ / دسمبر ۱۹۳۰ء کو تقریر کرتے ہوئے فرمایا :۔بہت سے خطوط مجھے ایسے آئے جن میں جماعت کے معزز افراد نے لکھا ہے کہ اس خبر کے سنتے ہی اُنہوں نے ارادہ کر لیا کہ ملازمتیں چھوڑ کر بقیہ عمر دین کی خدمت میں صرف کریں گے اور اسلام کی اشاعت میں لگ جائیں گے“۔” جہاں خدا تعالیٰ نے جماعت کو اخلاص کے اظہار کا موقع دیا وہاں یہ بھی بتا دیا کہ انسان آخر انسان ہی ہے خواہ وہ کوئی ہو جب ایسا وقت آئے تو انتخاب خلافت کس طرح کرنا ہے“۔انتخاب خلافت کے اس کے ساتھ ہی میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ جہاں خدا تعالیٰ نے اس طرح جماعت کو اخلاص کے اظہار کا متعلق جماعت کو ہدایت موقع دیا مخلصین کے اخلاص کو انتہا تک پہنچا دیا اور کثیر حصہ کو دشمنوں کی شرارت سے محفوظ رکھا وہاں یہ بھی بتا دیا کہ انسان آخر انسان ہی ہے خواہ وہ کوئی ہو آخر ایک نہ ایک دن اسے اپنے مخلصین سے جدا ہونا ہے اس بات کا احساس خدا تعالیٰ نے جماعت کو کرا دیا۔جماعت کے لحاظ سے اس سے ایک بہت بڑا سبق ملتا ہے اور وہ یہ کہ انسان مرتے ہیں ، رسول اور خلفاء فوت ہوتے ہیں، تمام ابنیاء کے سردار محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی فوت ہو گئے ، آپ کے خلفا ء بھی فوت ہو گئے ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا بھی انتقال ہو گیا۔ایک وقت تک لوگوں کو ایک ہی کی امید تھی اور وہ سمجھتے تھے کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ ہیں مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کی بھی موت ثابت کر دی۔غرض موت ہر ایک کے لئے مقدر ہے۔مگر یاد رکھو دشمن اب بھی