خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 20
خلافة على منهاج النبوة جلد دوم الفاظ میں کوئی ہدایت نہیں ہے۔اس کی مثال وائرلیس کے آلہ کی سی ہے اگر اس کی تاریں ٹھیک ہوں تو صحیح پیغام سنا جا سکتا ہے ورنہ نہیں۔پس جماعت کو اس کے متعلق اپنی ذمہ داری پہنچانی چاہیے اور نَسُلاً بَعْدَ نَسلِ روایت چھوڑ جانی چاہیے کہ ایک موقع جماعت پر ایسا آتا ہے جب کہ اسے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے بہترین انسان پر متفق ہو جانا چاہے“۔( غیر مطبوعہ مواد ) غیر مبائعین کی کذب بیانی اس کے بعد حضور نے غیر مبائعین کے فتنہ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ یہ لوگ جھوٹ اور غلط بیانی یہ میں کس طرح حد سے گزر چکے ہیں اور اس بات پر اظہار تعجب و افسوس فرمایا کہ ایسے ایسے جھوٹ دیکھ کر ان لوگوں کے دل میں کیوں درد نہیں پیدا ہوتا جنہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ تعلیم دی کہ کسی حالت میں خفیف سے خفیف جھوٹ بھی نہیں بولنا چاہیے۔حضور نے ان لوگوں کے حد سے بڑھے ہوئے جھوٹ کی مثال میں ۳۰ ستمبر کے پیغام کا ایک مضمون پڑھ کر سنایا جس میں لکھا ہے کہ خلیفہ قادیان کو اپنے بعد کی خلافت کی فکر ابھی سے دامن گیر ہے اور اس منصب جلیلہ کے لئے اپنے لخت جگر میاں ناصر احمد کے نام قرعہ فال نکالا ہے۔اس انتخاب کے بعد ولی عہد خلافت پرنس آف ویلز کی طرح دورہ پر نکلے۔تمام قادیانی جماعتوں کو اپنے دیدار فیض آثار سے آنکھوں کا نور اور دل کا سرور عطا فرمایا۔ہدیے، نذرانے اور تحائف وصول کر کے کامیابی سے قادیان واپس تشریف فرما ہوئے۔اس کامیاب دورہ کا اندازہ لگانے کے بعد کہ مریدوں نے میاں ناصر کو سر آنکھوں پر قبول کیا۔اخباروں ، پوسٹروں، اشتہاروں اور خطوط وغیرہ کی پیشانیوں کو هُوَ النَّاصِرُ کے فقرہ سے مزین کیا جانے لگا اور یوں ایک رنگ میں اعلان کیا گیا کہ ہونے والا خلیفہ ناصر میاں ہے۔تمام حاضرین نے لَعْنَتَ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ کہتے ہوئے شہادت دی کہ میاں ناصر احمد صاحب نے کوئی دورہ نہیں کیا۔حضور نے وضاحت کے ساتھ پیغام کے اس مضمون کی تردید کی اور بتایا کہ میاں ناصر احمد کو خلافت کے لئے دورہ کرانے کا الزام لگانے والے دیکھیں میں تو وہ ہوں جس نے ۱۹۲۴ء کی مجلس مشاورت میں یہ بات پیش کی تھی کہ کوئی خلیفہ