خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 302
خلافة على منهاج النبوة ٣٠٢ جلد دوم خلافت کا قائل ہوں۔بہر حال عبدالمنان کو امریکہ سے واپس آنے کے بعد تین ہفتہ تک ان امور کی صفائی پیش کرنے کی توفیق نہ ملی۔اس کی وجہ یہی تھی کہ اگر وہ لکھ دیتا کہ پیغا می لوگ میرے باپ کو غاصب، منافق اور جماعت کا مال کھانے والے کہتے رہے ہیں ، میں انہیں اچھی طرح جانتا ہوں تو پیغامی اس سے ناراض ہو جاتے اور اُس نے یہ امیدیں لگائی ہوئی تھیں کہ وہ ان کی مدد سے خلیفہ بن جائے گا۔اور اگر وہ لکھ دیتا کہ جن لوگوں نے خلافت ثانیہ کا انکار کیا ہے ، میں انہیں لعنتی سمجھتا ہوں تو اس کے وہ دوست جو اس کی خلافت کا پروپیگنڈا کرتے رہے ہیں اس سے قطع تعلق کر جاتے اور وہ ان سے قطع تعلقی پسند نہیں کرتا تھا اس لئے اس نے ایسا جواب دیا ہے جسے پیغام صلح نے بڑے شوق سے شائع کر دیا۔اگر وہ بیان خلافت ثانیہ کی تائید میں ہوتا تو پیغام صلح اسے کیوں شائع کرتا۔اس نے بھلا گزشتہ بیالیس سال میں کبھی میری تائید کی ہے؟ انہوں نے سمجھا کہ اس نے جو مضمون لکھا ہے وہ ہمارے ہی خیالات کا آئینہ دار ہے اس لئے اسے شائع کرنے میں کیا حرج ہے چنانچہ جماعت کے بڑے لوگ جو سمجھدار ہیں وہ تو الگ رہے، مجھے کالج کے ایک سٹوڈنٹ نے لکھا کہ پہلے تو ہم سمجھتے تھے کہ شاید کوئی غلط فہمی ہو گئی ہے لیکن ایک دن میں بیت الذکر میں بیٹھا ہوا تھا کہ مجھے پتہ لگا کہ پیغام صلح میں میاں عبدالمنان کا کوئی پیغام چھپا ہے تو میں نے ایک دوست سے کہا، میاں! ذرا ایک پر چہ لانا چنانچہ وہ ایک پرچہ لے آیا۔میں نے وہ بیان پڑھا اور اسے پڑھتے ہی کہا کہ کوئی پیغامی ایسا نہیں جو یہ بات نہ کہہ دے۔یہ تر دید تو نہیں اور نہ ہی میاں عبدالمنان نے یہ بیان شائع کر کے اپنی بریت کی ہے۔اس پر ہر ایک پیغامی دستخط کر سکتا ہے کیونکہ اس کا ہر فقرہ پیچ دار طور پر لکھا ہوا ہے اور اسے پڑھ کر ہر پیغامی اور خلافت کا مخالف یہ کہے گا کہ میرا بھی یہی خیال ہے۔غرض قرآن کریم نے واضح کر دیا ہے کہ یايُّهَا الَّذِينَ امَنُوا لا تَتَّخِذُوا بِطَانَةً مِّن دُونِكُمْ لا يَا لُوْنَكُمْ خَبَالا اے مومنو! جو لوگ تمہارے اندر اختلاف پیدا کرنا چاہتے ہیں، تم ان سے خفیہ میل جول نہ رکھو۔اب دیکھو یہاں دوستی کا ذکر نہیں بلکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے، تم ان سے بِطانَہ نہ رکھو اور بطانہ کے معنی محض تعلق ہوتے ہیں۔