خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 303
خلافة على منهاج النبوة ٣٠٣ جلد دوم اب اگر کوئی ان لوگوں کو گھر میں چھپ کر مل لے اور بعد میں کہہ دے کہ آپ نے یا صدر انجمن احمد یہ نے کب کہا تھا کہ انہیں نہیں ملنا تو یہ درست نہیں ہوگا۔ہم کہیں گے کہ خدا تعالیٰ نے تمہارے اندر بھی تو غیرت رکھی ہے پھر ہمارے منع کرنے کی کیا ضرورت ہے تمہیں خود اپنی غیرت کا اظہار کرنا چاہیے۔اگر تم ہمارے منع کرنے کا انتظار کرتے ہو تو اس کے یہ معنی ہیں کہ تمہیں خود قرآن کریم پر عمل کرنے کا احساس نہیں۔دیکھ لو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جب لیکھرام نے سلام کیا تو آپ نے یہ نہیں کہا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب دینے سے کب منع فرمایا ہے بلکہ آپ نے سمجھا کہ بے شک اس آیت میں لیکھرام کا ذکر نہیں لیکن خدا تعالیٰ نے لايَا لُو تَكُمْ خَبَالا تو فرما دیا ہے کہ تم ایسے لوگوں سے تعلق نہ رکھو جو تمہارے اندر فساد اور تفرقہ پیدا کرنا چاہتے ہیں پس گواس آیت میں لیکھرام کا ذکر نہیں لیکن اس کی صفات تو بیان کر دی گئی ہیں۔انہی صفات سے میں نے اسے پہچان لیا ہے جیسے کسی شاعر نے کہا ہے :۔بہر رنگے کہ خواہی جامہ سے پوش مے من انداز قدت را می شناسم کہ اے شخص تو چاہے کس رنگ کا کپڑا پہن کر آ جائے میں کسی دھوکا میں نہیں آؤں گا کیونکہ میں تیرا قد پہچانتا ہوں۔حضرت مرزا صاحب نے بھی یہی فرمایا کہ اے لیکھر ام ! تو چاہے کوئی شکل بنا کر آ جائے قرآن کریم نے تیری صفت بیان کر دی ہے اس لئے میں تجھے تیری صفت سے پہچانتا ہوں۔اللہ تعالیٰ نے صاف طور پر فرما دیا ہے کہ لایا لوتكم خبال کہ تمہارے دشمن وہ ہیں جو قوم میں فتنہ پیدا کرنا چاہتے ہیں اس لئے قرآن کریم کی ہدایت کے مطابق میں نے تم سے کوئی تعلق نہیں رکھا۔میں بھی تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ تم نو جوان ہو اور آئندہ سلسلہ کا بوجھ تم پر پڑنے والا ہے۔تمہیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہر چیز کی بعض علامتیں ہوتی ہیں اس لئے خالی منہ سے ایک لفظ ڈ ہرا دینا کافی نہیں بلکہ ان علامات کو دیکھنا بھی ضروری ہوتا ہے۔دیکھو رسول کریم صلی اللہ