خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 301 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 301

خلافة على منهاج النبوة ۳۰۱ جلد دوم عبد المنان کو ہی دیکھ لو۔جب وہ امریکہ سے واپس آیا تو میں نے مری میں خطبہ پڑھا اور اس میں میں نے وضاحت کر دی کہ اتنے امور ہیں ، وہ ان کی صفائی کر دے تو ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔وہ یہاں تین ہفتے بیٹھا رہا لیکن اُس کو اپنی صفائی پیش کرنے کی توفیق نہ ملی صرف اتنا لکھ دیا کہ میں تو آپ کا وفادار ہوں۔ہم نے کہا ہم نے تجھ سے وفاداری کا عہد کرنے کا مطالبہ نہیں کیا۔ہمیں معلوم ہے کہ پیغامی تمہارے باپ کو غاصب کا خطاب دیتے تھے۔وہ انہیں جماعت کا مال کھانے والا اور حرام خور قرار دیتے تھے تم یہ کیوں نہیں کہتے کہ میں ان پیغامیوں کو جانتا ہوں ، یہ میرے باپ کو گالیاں دیتے تھے یہ آپ کو غاصب اور منافق کہتے تھے میں ان کو قطعی اور یقینی طور پر باطل پر سمجھتا ہوں مگر اس بات کا اعلان کرنے کی اسے توفیق نہ ملی۔پھر اس نے لکھا کہ میں تو خلافت حقہ کا قائل ہوں۔اسے یہ جواب دیا گیا کہ اس کے تو پیغامی بھی قائل ہیں۔وہ بھی کہتے ہیں کہ ہم خلافت حقہ کے قائل ہیں لیکن ان کے نزدیک خلافت حقہ اُس نبی کے بعد ہوتی ہے جو بادشاہ بھی ہو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ بادشاہ بھی تھے اس لئے ان کے نزدیک آپ کے بعد خلافت حقہ جاری ہوئی اور حضرت ابو بکر، حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ ، حضرت علی خلیفہ ہوئے لیکن مرزا صاحب چونکہ بادشاہ نہیں تھے اس لئے آپ کے بعد وہ خلافت تسلیم نہیں کرتے۔پس یہ بات تو پیغامی بھی کہتے ہیں کہ وہ خلافت حقہ کے قائل ہیں۔تم اگر واقعی جماعت احمد یہ میں خلافت حقہ کے قائل ہو تو پھر یہ کیوں نہیں لکھتے کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد خلافت کو تسلیم کرتا ہوں اور جو آپ کے بعد خلافت کے قائل نہیں ، انہیں لعنتی سمجھتا ہوں۔پھر تم یہ کیوں نہیں لکھتے کہ خلافت حقہ صرف اسی نبی کے بعد نہیں جسے نبوت کے ساتھ بادشاہت بھی مل جائے بلکہ اگر کوئی نبی غیر بادشاہ ہو تب بھی اس کے بعد خلافت حقہ قائم ہوتی ہے۔تمہارا صرف یہ لکھنا کہ میں خلافت حقہ کا قائل ہوں، ہمارے مطالبہ کو پورا نہیں کرتا۔ممکن ہے تمہاری مراد خلافت حقہ سے یہ ہو کہ جب میں خلیفہ بنوں گا تو میری خلافت ، خلافت حقہ ہوگی یا خلافت حقہ سے تمہاری یہ مراد ہو کہ میں تو اپنے باپ حضرت خلیفہ ایج الاول کی خلافت کا قائل ہوں یا تمہاری یہ مراد ہو کہ میں حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ کی