خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 15
خلافة على منهاج النبوة ۱۵ جلد دوم امارت کا خلافت کے ماتحت نظام اور خلافت سے وابستگی ۱۹۳۰ء میں جماعت احمد یہ صوبہ بنگال کے عہد یداروں میں اختلاف کی وجہ سے جماعتی کام میں نقص پیدا ہونے لگا۔اس پر حضور نے صوبہ کے آئندہ نظام کے بارہ میں احباب جماعت بنگال سے مشورہ طلب کیا۔حصول مشورہ کے بعد آپ نے ایک مضمون تحریر فرمایا کہ امارت کا نظامِ خلافت کے ماتحت بہترین نظام ہے جسے اگر صحیح چلا یا جائے تو تمام ضرورتیں پوری ہو جاتی ہیں۔ابتداء یہ مضمون حضور نے ۱۳/ دسمبر ۱۹۳۰ء کو تحریر فرمایا جو امیر جماعت اور منصب امارت کی حقیقت“ کے نام سے شائع ہوا اس میں خلافت سے وابستگی کی ضرورت بیان کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں :۔وو دوسری طرف آپ کی تحریرات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ اس جماعت کی ترقی خلافت سے وابستگی کے ساتھ مشروط رکھتے ہیں۔خلیفہ کو واجب الاطاعت قرار دیتے ہیں اور اس کے وجود کو خدا تعالیٰ کے فضل کا نشان اور ذریعہ فرماتے ہیں جس کے فقدان کے ساتھ سلسلہ کی برکات بھی ختم ہو جائیں گی اور اس سے بغاوت کو شقاوت اور طغیانی قرار دیتے ہیں۔خلافت کے لئے مشورہ کی ضرورت تیسری طرف اسلام سے یہ امر با وضاحت ثابت ہے کہ کوئی خلافت بغیر مشورہ کے نہیں چل سکتی اور یہ کہ جہاں تک ہو خلیفہ کو کثرت رائے کا احترام کرنا چاہیے اور اس کے مطابق عمل کرنا چاہیے۔سوائے اس صورت کے کہ وہ خدا اور اس کے رسول کی خلاف ورزی کثرتِ رائے میں پائے یا اسلام کو کوئی واضح نقصان پہنچتا دیکھے یا مشورہ کو جماعت کی کثرتِ رائے کا آئینہ نہ سمجھے وغیرہ وغیرہ۔