خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 14 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 14

خلافة على منهاج النبوة ۱۴ جلد دوم ہوتی۔آپ کو جب اس کا علم ہوا تو آپ نے فرمایا یہ بھی شیطانی وسوسہ ہے۔حضرت ابوبکر اور دیگر ا کا بر صحابہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجالس میں آتے تھے۔ہماری مجلس میں کسی کا نہ آنا سخت غلطی ہے اس کے بھی یہی معنی ہیں کہ جذبات کو دبانا نہیں چاہیے۔پیر مرید کا تعلق دراصل جذبات کا ہی تعلق ہوتا ہے۔قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ان كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْببكم الله۔یہ بھی دراصل جذبات کا ہی اظہار ہے۔یہاں اتباع فرمایا۔جس کے معنی ہیں پیچھے چلنا۔یہاں حکم ماننا یا اطاعت کرنا نہیں فرمایا بلکہ یہ فرمایا کہ جیسے بچہ اپنی ماں کے ساتھ ساتھ چلتا ہے اسی طرح تم رسول کے پیچھے پیچھے اگر چلو گے تو خدا تعالیٰ تم سے اس کے نتیجہ میں محبت کرے گا اور پیچھے چلنا محض جذبات کا تعلق ہے اور خلیفہ بھی رسول کا ظل ہوتا ہے اس لئے وہ بھی جذبات سے ہی تعلق رکھنے والی چیز ہے۔ایڈریس کے متعلق جو اس وقت پیش کیا گیا ہے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ اس لحاظ سے قابل قدر ہے کہ اس میں عام ایڈریسوں سے جو ایسے موقعوں پر پیش کئے جاتے ہیں ایک قدم آگے اُٹھایا گیا ہے۔یعنی اس میں محبت آمیز جرح بھی تھی۔میرے نزدیک اپنے خیالات کو اس حد تک بیان کرنا کہ محبت اور ادب و احترام کا پہلو مدنظر رہے ایک خوشنما پہلو ہے۔صرف یہ کہہ دینا کہ آپ آئے اور بہت خوشی ہوئی اس میں کوئی زیادہ لذت نہیں ہوتی بلکہ اس میں تکلف پایا جاتا ہے پس ایڈریس کے طریق بیان پر بھی میں ( الفضل ۵ - اکتوبر ۱۹۲۸ء ) اظہارِ خوشنودی کرتا ہوں “۔آل عمران: ۳۲