خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 16
خلافة على منهاج النبوة ۱۶ جلد دوم مجلس عاملہ کی حیثیت ان تینوں امور کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نزدیک خلیفہ کو سب کام اپنے ہاتھ سے نہیں کرنے چاہئیں بلکہ ایک مجلس عاملہ کے ذریعہ سے کرنے چاہئیں تا کہ اس کی رائے میں کوئی خاص تعصب نہ پیدا ہو جائے۔وہ مجلس عاملہ اپنے دائرہ عمل میں سب دنیا کی جماعتوں کیلئے واجب الاطاعت ہونی چاہیے۔خلیفہ کو جماعت سے مشورہ لے کر اپنی پالیسی کو طے کرنا چاہیے اور اس مشورہ کا انتہائی حد تک لحاظ کرنا چاہیے اور اس سے یہ امر خود بخود نکل آیا کہ جب جماعت کے مشورہ سے کوئی امور طے ہوں تو مجلس عاملہ اس کی پابند ہو۔جب قادیان کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجلس عاملہ کا مرکز قرار دیا تو بہترین نظام بدرجہ اولیٰ خلیفہ اور مجلس شوری کیلئے اس مرکز کی پابندی ضروری ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اس سے بہتر نظام کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا۔اس نظام میں بغیر کسی حصہ ملک کو تکلیف میں ڈالنے کے ترقی کی بے انتہا ء گنجائش ہے اور باوجود مختلف صوبہ جات کی مخصوص ضرورتوں کو پورا کرنے کے قومیت کے تنگ بندھنوں سے نکالنے کی بھی پوری صورت موجود ہے۔خلیفہ کے لئے کوئی شرط نہیں کہ وہ کس ملک کا باشندہ ہو۔انجمن عاملہ کے لئے کوئی شرط نہیں کہ وہ کس ملک کے باشندوں سے چپنی جائے۔مجلس شوری اپنی بناوٹ کے لحاظ سے لازماً سب دنیا کی طرف سے چینی جانی چاہیے اور چونکہ بیشتر حصہ اصولی تجاویز کا ایسی مجلس کے ہاتھوں سے گزرنا ہے اس وجہ سے ہر ملک اور قوم کے افراد کو سلسلہ کے کام میں اپنی رائے دینے کا موقع ہوگا اور یہ خیال نہیں کیا جا سکتا کہ مسیحی پاپائیت کی طرح کسی خاص قوم کے ہاتھ میں سلسلہ کا کام چلا جائے گا۔کیونکہ رومن کیتھولک نظام میں مجلس شوری پوپ کے مقرر کردہ نمائندوں پر مشتمل ہوتی ہے لیکن اسلامی مجلس شوری میں سب مسلمانوں کو نمائندگی کا کافی موقع ملتا ہے۔پس اس نظام کے ذریعہ سے ہر ملک کو یکساں نمائندگی سلسلہ کے کام میں حاصل ہونے کے لئے راستہ کھلا ہے اور اس کے ماتحت سب دنیا کو ایک نقطہ پر جمع کیا جانا ممکن ہے اور یہی مقصد اسلام کا ہے جو قومیت کے تنگ دائرہ سے دنیا کو نکالنا چاہتا ہے“۔(انوار العلوم جلد ۱ صفحه ۲۳۷ تا ۲۳۹)