خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 291
خلافة على منهاج النبوة ۲۹۱ جلد دوم علیہ وسلم سے معاہدہ کیا تھا اور پھر بدر کی جنگ میں کہا تھا يَا رَسُولَ اللهِ ! یہ نہ سمجھیں کہ خطرہ کے وقت میں ہم موسیٰ کی قوم کی طرح آپ سے کہیں گے کہ جا تو اور تیرا خدا لڑتے پھر وہم یہیں بیٹھے ہیں يَا رَسُولَ اللهِ !ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے بائیں بھی لڑیں گے اور آگے بھی لڑیں گے پیچھے بھی لڑیں گے اور دشمن اُس وقت تک آپ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک ہماری لاشوں کو روندتا ہوا آگے نہ آئے لے سو گو میرا حافظ خدا ہے اور اُس کے دیئے ہوئے علم سے آج بھی میں ساری دنیا پر غالب ہوں لیکن چونکہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اپنی جماعت کا امتحان لے اور اس سے کہہ دے کہ آؤ ہم مدینہ والا معاہدہ کر میں سو تم میں سے جوشخص خدا تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر قسم کھا کر معاہدہ کرتا ہے کہ وہ اپنے آخری سانس تک وفاداری دکھائے گا وہ آگے بڑھے وہ میرے ساتھ ہے اور میں اور میرا خدا اس کے ساتھ ہے لیکن جو شخص ڈ نیوی خیالات کی وجہ سے اور منافقوں کے پروپیگنڈا کی وجہ سے بُزدلی دکھانا چاہتا ہے اُس کو میرا آخری سلام۔میں کمزور اور بوڑھا ہوں لیکن میرا خدا کمزور اور بوڑھا نہیں۔وہ اپنی قہری تلوار سے ان لوگوں کو تباہ کر دے گا جو کہ اس منافقانہ پروپیگنڈا کا شکار ہوں گے۔اس پرو پیگنڈا کا کچھ ذکر الفضل میں چھاپ دیا گیا ہے چاہیے کہ قائد خدام اُس مضمون کو بھی پڑھ کر سنا دیں۔اللہ تعالیٰ جماعت کا حافظ و ناصر ہو۔پہلے بھی اس کی مدد مجھے حاصل تھی اب بھی اس کی مدد مجھے حاصل رہے گی۔میں یہ پیغام صرف اس لئے آپ کو بھجوا رہا ہوں تا کہ آپ لوگ تباہی سے بچ جائیں ورنہ حقیقتا میں آپ کی مدد کا محتاج نہیں۔ایک ایک مرتد کے مقابلہ میں خدا تعالیٰ ہزاروں آدمی مجھے دے گا اور مجھے توفیق بخشے گا کہ میرے ذریعہ سے پھر سے جماعت جواں سال ہو جائے۔آپ میں سے ہر خلص کے لئے دعا اور کمزور کے لئے رخصتی سلام۔خاکسار مرزا محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی ( الفضل ۴ را گست ۱۹۵۶ء) بخاری کتاب المغازى باب قصة غزوة بدر صفحه ۶۶۸ حدیث نمبر ۳۹۵۲ مطبوعه ریاض ١٩٩٩ء الطبعة الأولى