خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 290
خلافة على منهاج النبوة ۲۹۰ جلد دوم مومن تھا اس نے کہا مولوی صاحب ! آپ ہیڈ ماسٹر ہیں اور مجھے مار بھی سکتے ہیں مگر یہ مذہبی سوال ہے میں اپنے عقیدہ کو آپ کی خاطر نہیں چھوڑ سکتا۔فوراً جھک کر وہ کا غذ اٹھایا اور اُسی وقت پنسل سے اس کی نقل کرنی شروع کر دی اور مولوی صاحب کے سامنے ہی دوسرے مہمانوں سے اُس پر دستخط کروانے شروع کر دئیے۔اس پر ۴۲ سال گزر گئے ہیں میں اُس وقت جوان تھا اور آب ۶۸ سال کی عمر کا ہوں اور فالج کی بیماری کا شکار ہوں۔اُس وقت آپ لوگوں کی گردنیں پیغامیوں کے ہاتھ میں تھیں اور خزانہ میں صرف ۱۸ آنے کے پیسے تھے میں نے خالی خزانہ کو لے کر احمدیت کی خاطر ان لوگوں سے لڑائی کی جو کہ اُس وقت جماعت کے حاکم تھے اور جن کے پاس روپیہ تھا۔لیکن خدا تعالیٰ نے میری مدد کی اور جماعت کے نو جوانوں کو خدمت کرنے کی توفیق دی۔ہم کمزور جیت گئے اور طاقتور دشمن ہار گیا۔آج ہم سیاری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں اور جن لوگوں کو ایک تفسیر پر ناز تھا ان کے مقابلہ میں اتنی بڑی تفسیر ہمارے پاس ہے کہ ان کی تفسیر اس کا تیسرا حصہ بھی نہیں۔جو ایک انگریزی ترجمہ پیش کرتے تھے اس کے مقابلہ میں ہم چھ زبانوں کا ترجمہ پیش کر رہے ہیں لیکن ناشکری کا بُرا حال ہو کہ وہی شخص جس کو پیغامی سترا بہتر ا قرار دے کر معزول کرنے کا فتویٰ دیتے تھے اور جس کے آگے اور دائیں اور بائیں لڑ کر میں نے اُس کی خلافت کو مضبوط کیا اُس سے تعلق رکھنے والے چند بے دین نوجوان جماعتوں میں آدمی بھیجوا ر ہے ہیں کہ خلیفہ بڑھا ہو گیا ہے اسے معزول کرنا چاہیے۔اگر واقع میں میں کام کے قابل نہیں ہوں تو آپ لوگ آسانی کے ساتھ ایک دوسرے قابل آدمی کو خلیفہ مقرر کر سکتے ہیں اور اُس سے تفسیر قرآن لکھوا سکتے ہیں۔میری تقریریں مجھے واپس کر دیجئے اور اپنے روپے لے لیجئے اور مولوی محمد علی صاحب کی تفسیر یا اور جس تفسیر کو آپ پسند کریں اسے پڑھا کریں اور جونئی تفسیر میری چھپ رہی ہے اُس کو بھی نہ چھوئیں۔یہ اول درجہ کی بے حیائی ہے کہ ایک شخص کی تفسیروں اور قرآن کو دنیا کے سامنے پیش کر کے تعریفیں اور شہرت حاصل کرنی اور اُسی کو نکما اور ناکارہ قرار دینا۔مجھے آج ہی اللہ تعالیٰ نے الہام سے سمجھایا کہ آؤ ہم مدینہ والا معاہدہ کریں، یعنی جماعت سے پھر کہو کہ یا تم مجھے چھوڑ دو اور میری تصنیفات سے فائدہ نہ اُٹھاؤ۔نہیں تو میرے ساتھ وفاداری کا ویسا ہی معاہدہ کرو جیسا کہ مدینہ کے لوگوں نے ملکہ کی عقبہ جگہ پر رسول اللہ صلی اللہ