خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 271
خلافة على منهاج النبوة ۲۷۱ جلد دوم ثابت ہیں ) لیکن جہاں تک خلافت کا سوال ہے خلیفہ مشورہ لینے کا پابند ہے مشورے پر عمل کرنے کا پابند نہیں۔پس اگر سو فیصدی خلافت کے اصول پر پاکستان کا آئین بنایا جائے تو حکومت کا ہیڈ ایگزیکٹو کا ہیڈ ہوگا۔ایگزیکٹو کا انتخاب اس کے اپنے اختیار میں ہوگا وہ تمام ضروری امور میں پبلک کے نمائندوں سے مشورہ لے گا لیکن اُن مشوروں پر کار بند ہونے کا پابند نہیں ہوگا۔لیکن میں پہلے بتا چکا ہوں کہ پاکستان کا ہیڈ خلیفہ نہیں ہوگا کیونکہ نہ ساری اسلامی حکومتیں اس کو ہیڈ تسلیم کریں گی نہ علماء اس کو مذہبی ہیڈ تسلیم کریں گے اس لئے ہم خلافت کے پس پردہ جو اصول کارفرما ہیں ان سے روشنی تو حاصل کر سکتے ہیں ان کی پوری نقل نہیں کر سکتے۔اور چونکہ خلافت اُس وقت تک قائم نہیں ہو سکتی جب تک دنیا کی سب مسلمان حکومتیں اور افراد اس انتخاب پر متفق نہ ہو جائیں یا اکثریت متفق نہ ہو جائے اور یہ ناممکن ہے اس لئے یہ کہنا کہ پاکستان کا آئین اساسی اسلام پر مبنی ہو درست نہیں۔جس طرح انگریزی حکومت کے ماتحت ہمیں شریعت کے وہ احکام نافذ کرنے کا اختیار نہ تھا جو حکومت کے متعلق تھے اور ہم اس کی وجہ سے گنہ گار نہیں تھے اسی طرح اسلامی آئین حکومت چونکہ خلافت سے تعلق رکھتا ہے اور خلافت کا قیام مسلمان افراد اور حکومتوں کی اکثریت کے اتفاق کے بغیر ناممکن ہے اس لئے اگر ہم اس نظام کو قائم نہیں کرتے تو ہم ہرگز خدا تعالیٰ کے سامنے مجرم نہیں کیونکہ اس نظام کے قائم کرنے کے لئے جو شرطیں اسلام نے مقرر کی ہیں وہ شرطیں اس وقت پوری نہیں ہوتیں“۔(اسلام کا آئین اساسی صفحه ۳ ۴۰ )