خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 272
خلافة على منهاج النبوة ۲۷۲ جلد دوم خلافت وعدہ الہی ، اس کی شرائط اور برکات حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے سورۃ نور کی جو تفسیر تفسیر کبیر جلد پنجم حصہ اول میں بیان فرمائی اس میں مسلمانوں سے خلافت کا وعدہ الہی ، اس کی شرائط اور اس کی برکات بیان فرمائیں۔آپ فرماتے ہیں :۔کل ہی میں ایک کتاب پڑھ رہا تھا اس میں لکھا تھا کہ فرانس کے ایک جرنیل کو ایک آرڈر آیا جو ظالمانہ تھا۔یہ دیکھ کر کہ وہ آرڈر نہایت ظالمانہ ہے دوستوں نے اُسے مشورہ دیا کہ تم اسے رڈ کر دو۔یہ جرنیل وہی تھا جس نے سسلی کو فتح کیا تھا اور اسے مسلمان جرنیل موسیٰ کی طرح سسلی فتح کر لینے کے بعد سزا ملی۔اس نے کہا تم مجھے غلط مشورہ دیتے ہو گورنمنٹئیں آتی ہیں اور جاتی ہیں لیکن فرانس زندہ رہے گا۔میں فرانس کا خادم ہوں اور اس سے غداری نہیں کر سکتا۔موسیٰ نے بھی دوستوں کے اس مشورہ پر کہ تم سرنڈر (Surrender) نہ کرو یہی جواب دیا تھا کہ ولید کا حکم نہیں بلکہ خلیفہ کا حکم ہے اس حکم کی تعمیل کر کے میں مارا ضرور جاؤں گا لیکن میں نہیں چاہتا کہ کوئی یہ کہے کہ خلیفہ کے حکم کی تعمیل نہیں کی گئی۔خواہ اس حکم کا نفاذ میرے گرنے یا مرنے سے ہی ہو میں اسے رد نہیں کرونگا۔اسی طرح اس جرنیل نے کہا کہ قو میں آئیں گی اور بدل جائیں گی لیکن فرانس زندہ رہے گا اور یا درکھا جائے گا۔میں موت قبول کرلوں گا لیکن یہ بات سننے کے لئے تیار نہیں ہوں کہ دنیا میں یہ کہا جائے کہ فرانس کے کسی جرنیل نے حکم رڈ کر دیا تھا۔انہی چیزوں کے ساتھ افراد کی عزت ہوتی ہے۔بعض لوگوں کی محبت چیزوں سے ہوتی ہے اور بعض کی محبت اصول سے ہوتی ہے جو لوگ اصول کے ساتھ محبت رکھتے ہیں وہی جیتے ہیں جو تو میں اصول کی قدر کرتی ہیں گوان کا ایک واجب الاطاعت امام ہوتا ہے لیکن حقیقتا وہ خود لیڈر ہوتی ہیں۔جب ایک لیڈر مر جاتا ہے تو وہ دوسرا لیڈر پیدا