خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 270
خلافة على منهاج النبوة ۲۷۰ جلد دوم دستور اسلامی یا اسلامی آئین اساسی قیام پاکستان کے شروع میں یہ سوال زور پکڑ رہا تھا کہ پاکستان کا دستور اسلامی ہو یا قومی۔حضرت مصلح موعود نے بھی اس سلسلہ میں رتن باغ لاہور میں کچھ لیکچر دیے جن کے نوٹس کو اسلام کا آئین اساسی کے نام سے شائع کیا گیا اس ضمن میں حضور فرماتے ہیں :۔اسلامی اصول پر مبنی گورنمنٹ کے لئے چونکہ انتخاب کی شرط ہے اس لئے اگر اسلامی آئین پر گورنمنٹ کی بنیاد رکھی جائے گی تو مندرجہ ذیل شرائط کو مدنظر رکھنا ہوگا۔اول : حکومت کا ہیڈ منتخب کیا جائے گا۔انتخاب کا زمانہ مقرر کیا جاسکتا ہے کیونکہ پاکستان کا ہیڈ خلیفہ نہیں ہو گا خلیفہ کو سارے مسلمانوں پر حکومت حاصل ہوتی ہے اور وہ صرف حکومت کا ہیڈ نہیں ہوتا بلکہ مذہب کا بھی ہیڈ ہوتا ہے۔پاکستان کے ہیڈ کو نہ دوسرے ملکوں کے مسلمان تسلیم کریں گے اور نہ علماء مذہب کے مسائل میں اُس کو اپنا ہیڈ ماننے کے لئے تیار ہوں گے اس لئے خلافت کے اصول پر اس کے اصول تو مقرر کئے جا سکتے ہیں مگر نہ وہ خلیفہ ہوسکتا ہے نہ خلافت کے سارے قانون اُس پر چسپاں ہو سکتے ہیں۔خلافت کے اصول یہ ہیں۔(1) اُس کا تقرر انتخابی ہو ( اس انتخاب کے کئی طریق ہیں لیکن اس تفصیل میں جانے کی اس وقت گنجائش نہیں۔) (۲) وہ مملکت کے کام مشورہ سے چلائے ( مشورہ کے لئے اسلام کے تین اصول ہیں (i) عام مسلمانوں سے مشورہ لینا یعنی ریفرنڈم۔(ii) چند تجربہ کارلوگوں سے مشورہ لینا یعنی ایگزیکٹو باڈی سسٹم۔(iii) قوموں کے منتخب نمائندوں سے مشورہ لینا جیسے آجکل کی پارلیمنٹس ہوتی ہیں۔یہ تین طریقے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے