خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 264 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 264

خلافة على منهاج النبوة ۲۶۴ جلد دوم جلسہ کے دوران میں بھی باہر پھرتے رہتے ہیں لیکن ان پہلے لوگوں میں اخلاص نہایت اعلیٰ درجہ کا تھا اور قادیان میں دیکھنے کی کوئی خاص چیز نہ تھی نہ منارة امسیح تھا نہ دفا تر تھے، نہ مسجد مبارک کی ترقیاں ایمان پرور تھیں ، نہ مسجد اقصیٰ کی وسعت اس قدر جاذب تھی ، نہ محلوں میں یہ رونق تھی ، نہ کالج تھا ، نہ سکول تھے۔اُن دنوں لوگ اپنے اخلاص سے خود ہی قابلِ زیارت جگہ بنا لیا کرتے تھے۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے والد صاحب کا باغ ہے اسے دیکھو اور یہ حضرت صاحب کے لنگر کا باورچی ہے اس سے ملو اور اس سے باتیں پوچھو۔ان کا ایمان اسی سے بڑھ جاتا تھا۔اُن دنوں ابھی بہشتی مقبرہ بھی نہ بنا تھا صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے والد کا لگایا ہوا باغ تھا۔لوگ وہاں برکت حاصل کرنے کیلئے جاتے اور علی شیر صاحب رستہ میں بیٹھے ہوئے ہوتے۔وہ پانچوں بھائی بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا باغ دیکھنے کے لئے گئے تو اُن میں سے ایک جو زیادہ جوشیلا تھا وہ کوئی دو سو گز آگے تھا اور باقی آہستہ آہستہ پیچھے آرہے تھے۔علی شیر نے اُسے دیکھ کر کہ یہ باہر سے آیا ہے اپنے پاس بلا لیا اور پوچھا کہ مرزا کو ملنے آئے ہو؟ اُس نے کہا ہاں مرزا صاحب کو ہی ملنے آیا ہوں۔علی شیر نے اُس سے کہا ذرا بیٹھ جاؤ اور پھر اُسے سمجھانا شروع کیا کہ میں مرزا کے قریبی رشتہ داروں میں سے ہوں میں اس کے حالات سے خوب واقف ہوں ، اصل میں آمدنی کم تھی بھائی نے جائداد سے بھی محروم کر دیا اس لئے یہ دُکان کھول لی ہے۔آپ لوگوں کے پاس کتابیں اور اشتہار پہنچ جاتے ہیں آپ سمجھتے ہیں کہ پتہ نہیں کتنا بڑا بزرگ ہو گا پتہ تو ہم کو ہے جو دن رات اس کے پاس رہتے ہیں۔یہ باتیں میں نے آپ کی خیر خواہی کے لئے آپ کو بتائی ہیں۔چک سکندر سے آنے والے دوست نے بڑے جوش کے ساتھ مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھایا۔علی شیر صاحب سمجھے کہ شکار میرے ہاتھ آ گیا ہے۔اُس دوست نے علی شیر صاحب کا ہاتھ پکڑ لیا اور پکڑ کر بیٹھ گیا۔گویا اسے اُن سے بڑی عقیدت ہو گئی ہے۔علی شیر صاحب دل میں سمجھے کہ ایک تو میرے قابو میں آ گیا ہے۔اس دوست نے اپنے باقی بھائیوں کو آواز دی کہ جلدی آؤ جلدی آؤ۔اب تو مرزا علی شیر پھولے نہ سمائے کہ اس کے کچھ اور ساتھی بھی ہیں وہ بھی میرا شکار ہو جائیں گے اور میں ان کو