خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 265
خلافة على منهاج النبوة ۲۶۵ جلد دوم۔بھی اپنا گرویدہ بنالوں گا۔اس دوست کے باقی ساتھی دوڑ کر آ گئے تو اس نے کہا۔میں نے تمہیں اس لئے جلدی بلایا ہے کہ ہم قرآن کریم اور حدیث میں شیطان کے متعلق پڑھا کرتے تھے مگر شکل نہیں دیکھی تھی آج اللہ تعالیٰ نے اُس کی شکل بھی دکھا دی ہے تم بھی غور سے دیکھ لو یہ شیطان بیٹھا ہے۔مرزا علی شیر غصہ سے ہاتھ واپس کھینچتے لیکن وہ نہ چھوڑتا تھا اور اپنے بھائیوں سے کہتا جاتا تھا دیکھ لو اچھی طرح دیکھ لو، شاید پھر دیکھنا نہ ملے یہ شیطان ہے۔پھر اس نے اپنے بھائیوں کو سارا قصہ سنایا۔اب دیکھو کس طرح ایک قوم دوسری قوم کے قدم بقدم چلتی ہے۔ہم نے خود دیکھ لیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دشمن تیرہ سو سال کے بعد وہی اعتراض کرتے ہیں صلى الله جو رسول کریم ﷺ پر کئے گئے بلکہ وہی اعتراض کئے جاتے ہیں جو حضرت نوح پر آپ کے دشمنوں نے کئے یا جو اعتراض حضرت ابراہیم پر آپ کے دشمنوں نے کئے ، یا جو اعتراض حضرت موسیٰ“ کے دشمنوں نے آپ پر کئے ، یا جو اعتراض حضرت عیسی پر آپ کے دشمنوں نے کئے۔پس حقیقت یہ ہے کہ سچ کا مقابلہ سوائے جھوٹ اور فریب کے کیا ہی نہیں جا سکتا۔سچ ہر زمانہ میں سچ ہے اور جھوٹ ہر زمانہ میں جھوٹ ہے۔سچ کے مقابلہ میں سوائے جھوٹ اور فریب کے آہی کیا سکتا ہے۔اگر کوئی چیز دشمنوں کے پاس سوائے جھوٹ کے ہوتو نکلے۔ہمارے ہاں مثل مشہور ہے کہ کسی میراثی کے گھر میں رات کے وقت چور آیا یہ سمجھ کر کہ آخر دس ہمیں پچاس روپے تو اس کے ہاں ضرور ہونگے اور نہیں تو کوئی کپڑا ہی سہی۔چور کونسا لاکھ پتی ہوتا ہے کہ ضرور لاکھوں والی جگہ ہی چوری کرے اگر اُسے ایک روپیہ بھی مل جائے تو وہ اُسے ہی غنیمت سمجھتا ہے۔وہ بھی یہی سمجھا کہ آخر کوئی نہ کوئی ہدیہ ہی میراثی کو جمانوں سے کے ہاں سے ملا ہوگا وہی سہی۔پرانے زمانے میں یہ دستور تھا کہ جس کے پاس کوئی نقدی یا زیور ہوتا وہ اُسے کسی برتن میں ڈال کر زمین میں دفن کر دیتا تھا اور چوروں نے اُسے نکالنے کا یہ طریق نکالا تھا کہ وہ لاٹھی لے کر گھر کی زمین کو ٹھکو ر ٹھکور کر دیکھتے جہاں انہیں نرم نرم زمین معلوم ہوتی وہاں سے کھود کر نقدی یا زیور نکال لیتے تھے۔یہی طریق اُس چور نے اختیار کیا اور لاٹھی لے کر گھر کی زمین کو ٹھکو ر ٹھکور کر دیکھنے لگا۔اسی اثناء میں میراثی کی آنکھ کھل گئی اور اُسے