خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 263
خلافة على منهاج النبوة ۲۶۳ جلد دوم گئے۔وہ حقہ پینے کے لئے بیٹھے ہی تھے کہ مرزا امام الدین نے کہنا شروع کیا انسان کو کام وہ کرنا چاہیے جس سے اُسے کوئی فائدہ ہو۔تم جو اتنی دور سے پیدل سفر کر کے آئے ہو ( کیونکہ ان کے پیر کا حکم تھا کہ تم چونکہ دادا پیر کے پاس جا رہے ہو اس لئے پیدل جانا ہوگا ) بتا ؤ تمہیں یہاں آنے سے کیا فائدہ ہوا ؟ ایمان انسان کو عقل بھی دے دیتا ہے بلکہ عقل کو تیز کر دیتا ہے کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد ان میں سے ایک نو مسلم کہنے لگا کہ ہم پڑھے لکھے تو ہیں نہیں اور نہ ہی کوئی علمی جواب جانتے ہیں اصل بات یہ ہے کہ آپ کو بھلے مانس مرید ملے نہیں اس لئے آپ چوہڑوں کے پیر بن گئے ہیں۔آپ کہتے ہیں کہ ہمیں کیا ملا ؟ آپ مرزا صاحب کی مخالفت کر کے مرزا سے چوہڑے بن گئے اور ہم مرزا صاحب کو مان کر چوہڑوں سے مرزا ہو گئے۔لوگ ہمیں مرزائی مرزائی کہتے ہیں یہ کتنا بڑا فائدہ ہے جو ہمیں حاصل ہوا۔اب دیکھو یہ کیسی مشابہت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رشتہ داروں کی باتوں میں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے رشتہ داروں کی باتوں میں۔مرزا علی شیر صاحب جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سالے اور مرزا فضل احمد صاحب کے خسر تھے انہیں لوگوں کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس جانے سے روکنے کا بڑا شوق تھا۔راستہ میں ایک بڑی لمبی تسبیح لے کر بیٹھ جاتے ،تسبیح کے دانے پھیرتے رہتے اور منہ سے گالیاں دیتے چلے جاتے بڑا لٹیرا ہے، لوگوں کو ٹوٹنے کے لئے دُکان کھول رکھی ہے۔بہشتی مقبرہ کی سڑک پر دار الضعفاء کے پاس بیٹھے رہتے۔اُس وقت یہ تمام زمین زیر کاشت ہوتی تھی۔عمارت کوئی نہ تھی۔بڑی لمبی سفید داڑھی تھی سفید رنگ تھا۔تسبیح ہاتھ میں لئے بڑے شاندار آدمی معلوم ہوتے تھے اور مغلیہ خاندان کی پوری یادگار تھے۔تسبیح لئے بیٹھے رہتے جو کوئی نیا آدمی آتا اُسے اپنے پاس بلا کر بٹھا لیتے اور سمجھانا شروع کر دیتے کہ مرزا صاحب سے میری قریبی رشتہ داری ہے آخر میں نے کیوں نہ اُسے مان لیا۔اس کی وجہ یہی ہے کہ میں اُس کے حالات سے اچھی طرح واقف ہوں۔میں جانتا ہوں کہ یہ ایک دکان ہے جو لوگوں کو ٹوٹنے کے لئے کھولی گئی ہے۔ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ باہر سے پانچ بھائی آئے غالبا وہ چک سکندر ضلع گجرات کے رہنے والے تھے۔اب تو لوگ