خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 236 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 236

خلافة على منهاج النبوة ۲۳۶ جلد دوم حضرت خلیفہ اول کی وفات نزدیک آتی گئی ان لوگوں نے جماعت میں کثرت کے ساتھ پرو پیگنڈا شروع کر دیا کہ آئندہ خلافت کا سلسلہ جاری نہیں ہونا چاہئے۔جس دن حضرت خلیفہ اول فوت ہوئے دنیا نے کہا اب یہ سلسلہ ختم ہو گیا کیونکہ جس شخص پر اس سلسلہ کا تمام انحصار تھا وہ اُٹھ گیا۔اُس دن جب مخالفوں کی زبان پر یہ تھا کہ یہ سلسلہ ختم ہو گیا میں نے جماعت کو تفرقہ سے بچانے کے لئے مولوی محمد علی صاحب سے گفتگو کی اور میں نے اُن سے کہا کہ آپ کسی شخص کو خلیفہ مقرر کریں میں اُس کے ہاتھ پر بیعت کرنے کے لئے تیار ہوں۔میں نے اُن سے یہ بھی کہا کہ جب میں بیعت کرلوں گا تو وہ لوگ جو میرے ساتھی ہیں وہ بھی میرے ساتھ ہی خود بخود بیعت کر لیں گے اور اس طرح تفرقہ پیدا نہیں ہوگا۔مگر باوجود میری تمام کوششوں کے آخری جواب مولوی محمد علی صاحب نے یہ دیا کہ آپ جانتے ہیں جماعت والے کس کو خلیفہ مقرر کریں گے اور یہ کہہ کر وہاں سے چلے آئے۔حالانکہ میری نیک نیتی اس سے ظاہر ہے کہ جس دن عصر کی نماز کے وقت لوگوں نے میری بیعت کی اُسی دن صبح کے وقت میں نے اپنے تمام رشتہ داروں کو جمع کیا اور اُن سے کہا کہ ہمیں ضد نہیں کرنی چاہئے اگر وہ خلافت کو تسلیم کر لیں تو کسی ایسے آدمی پر اتفاق کر لیا جائے جو دونوں فریق کے نزدیک بے تعلق ہو اور اگر وہ یہ بھی قبول نہ کریں تو پھر ان لوگوں میں سے کسی کے ہاتھ پر بیعت کر لی جائے اور میرے اصرار پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تمام اہلِ بیت نے اس امر کو تسلیم کر لیا۔پھر میری یہ حالت تھی کہ حضرت خلیفہ اول کی وفات سے چند دن پہلے میں اُس مقام پر گیا جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام دعا کیا کرتے تھے اور میں نے وضو کر کے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی۔میری عمر اس وقت اتنی چھوٹی نہ تھی مگر بڑی بھی نہ تھی۔۲۵ سال میری عمر تھی ، میری والدہ موجود تھیں ، میری بیوی موجود تھیں اور میرے بچے بھی تھے مگر میں نے اُس وقت نیت کر لی کہ چونکہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ میری وجہ سے جماعت میں تفرقہ پیدا ہو رہا ہے اس لئے میں خاموشی سے کہیں باہر نکل جاؤں گا تا کہ میں تفرقہ کا باعث نہ بنوں۔چنانچہ میں نے دعا کی کہ خدایا ! میں اس جماعت میں فتنہ پیدا کرنے والا نہ بنوں تو میرے دل کو تقویت عطا فرما تا کہ میں پنجاب یا ہندوستان کے کسی علاقہ میں اپنے بیوی بچوں کو چھوڑ کر نکل