خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 237
خلافة على منهاج النبوة ۲۳۷ جلد دوم جاؤں اور میری وجہ سے کوئی فتنہ پیدا نہ ہو۔اس کے بعد میں نے پختہ ارادہ کر لیا کہ کہیں نکل کر چلا جاؤں گا مگر خدا کی قدرت ہے دوسرے تیسرے دن ہی اچانک حضرت خلیفہ اول کی وفات ہو گئی اور میں اس جھگڑے میں پھنس گیا۔تب جماعت کے غریب طبقہ نے میرے ہاتھ پر بیعت کر لی اور وہ جو بڑے بڑے لوگ کہلاتے تھے جماعت سے الگ ہو گئے۔ان میں سے ایک ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب تھے۔انہوں نے وہاں سے روانہ ہوتے وقت ہماری عمارتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم تو جاتے ہیں کیونکہ جماعت نے ہم سے اچھا سلوک نہیں کیا لیکن تم دیکھ لو گے کہ دس سال کے عرصہ میں ان جگہوں پر عیسائیوں کا قبضہ ہو جائے گا اور احمدیوں کے ہاتھ سے یہ تمام جائداد میں نکل جائیں گی۔اُس وقت میرے ہاتھ پر دو ہزار کے قریب آدمیوں نے بیعت کی ، باہر کی اکثر جماعتیں ابھی بیعت میں داخل نہیں ہوئی تھیں۔یہاں تک کہ ”پیغام صلح میں لکھا گیا کہ پچانوے فیصدی جماعت ہمارے ساتھ ہے اور صرف پانچ فیصدی جماعت مرزا محمود احمد کے ساتھ ہے۔مگر ابھی دو مہینے نہیں گزرے تھے بلکہ ابھی صرف ایک مہینہ ہی ہوا تھا کہ ساری کی ساری جماعت میری بیعت میں شامل ہوگئی اور پیغام صلح نے یہ لکھنا شروع کر دیا کہ ۹۵ فیصدی جماعت مرزا محمود احمد کے ساتھ ہے اور صرف پانچ فیصدی ہمارے ساتھ۔پھر میری مخالفت بھی تھوڑی نہیں ہوئی میرے قتل کی کئی بار کوششیں کی گئیں۔احرار کی شورش کے ایام میں ہی ایک دفعہ قادیان میں سرحد کی طرف سے ایک پٹھان آیا اور میرے مکان کے دروازے پر کھڑے ہو کر اُس نے لڑکا اندر بھیجا کہ وہ مجھ سے ملنا چاہتا ہے۔میں تو ان باتوں کی پرواہ نہیں کیا کرتا میں آنے ہی لگا تھا کہ مجھے باہر کچھ شور کی آواز سنائی دی۔معلوم ہوا کہ ہماری جماعت کے ایک مخلص دوست جو پٹھان ہیں اُنہوں نے اُسے پکڑ لیا اور اُس کے نیفے میں سے چھرا نکال لیا۔بعد میں اُس نے تسلیم کیا کہ میں واقعہ میں قتل کرنے کی نیت سے ہی آیا تھا۔اسی طرح یہاں لاہور میں ایک دفعہ ایک دیسی عیسائی کو پھانسی ہوئی۔جے میتھوز اُس کا نام تھا۔اُس نے اپنی بیوی کو قتل کر دیا تھا جس کی پاداش میں سیشن جج نے اُسے پھانسی کی سزا یا