خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 232
خلافة على منهاج النبوة ۲۳۲ جلد دوم خلافت کو بادشاہت کا رنگ نہیں دینا چاہیے حضرت خلیقہ مسیح الثانی نے ۲۶ دسمبر ۱۹۴۲ء کو جلسہ سالانہ کے موقع پر بعض اہم اور ضروری امور پر تقریر فرمائی۔اس موقع پر ایک پرائیویٹ بات کا ذکر فرمایا جو ملاقات کے بارہ میں تھی۔آپ نے فرمایا :۔میں ایک واقعہ کا بھی ذکر کرنا چاہتا ہوں جو اگر چہ پرائیویٹ ہے مگر اس لئے بیان کرتا ہوں کہ دوسروں کو بھی فائدہ ہو سکے۔آج ملاقات کے بعد مجھے پرائیویٹ سیکرٹری نے بتایا کہ ایک عزیز مجھ سے ملنے کیلئے آئے تھے اور انہوں نے دروازہ میں داخل ہونا چاہا مگر پہرہ دار نے روکا۔انہوں نے کہا کہ میں ملاقات کرنا چاہتا ہوں مگر پہرہ دار نے کہا کہ میں نہیں جانتا آپ کون ہیں۔اُس عزیز نے کہا میں اسی جماعت کے ساتھ تعلق رکھتا ہوں جس کی ملاقات ہورہی ہے۔اس پر پہرہ دار نے کہا کہ آپ وقت پر کیوں نہیں آئے بعد از وقت میں اجازت نہیں دے سکتا۔اُس پر بھی اس عزیز نے ملاقات پر اصرار کیا۔پہرہ دار نے اجازت نہ دی تو اُس نے اُسے مُکا مارا جس سے پہرہ دار کے جسم سے خون بہہ نکلا۔اس واقعہ میں دونوں کی غلطی ہے۔اس نوجوان کے متعلق میں جانتا ہوں کہ وہ مخلص ہے اور اس نے ایسے وقت میں اپنے اخلاص کو قائم رکھا جبکہ اُس کے بزرگ اس سے محروم ہو گئے تھے وہ ملاقات کرنا چاہتے تھے تو اس طرح ان کو روکنا مناسب نہ تھا۔چاہیے یہ تھا کہ پہرہ دارا نہیں کہتے کہ تشریف لائیے آپ کا کس جماعت کے ساتھ تعلق ہے اور پھر اس جماعت کے سیکرٹری صاحب کے پاس لے جاتے کہ یہ آپ کی جماعت کے فرد ہیں اور اس طرح ان کیلئے میرے ساتھ ملاقات کا انتظام کرتے۔پہرہ والوں کو سوچنا چاہیے کہ ان کے روکنے کے بعد میرے ساتھ ملاقات کا ان کے پاس کیا ذریعہ تھا۔اس بات کو کبھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ یہ