خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 5 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 5

خلافة على منهاج النبوة جلد دوم خلیفہ کا مرکز میں رہنا ضروری ہے ۱۹۲۴ء میں انگلستان میں ویمبلے کے مقام پر منعقد ہونے والی مذہبی کا نفرنس کے منتظمین نے حضرت مصلح موعود کو بھی شرکت کی دعوت دی۔آپ نے بعد از مشورہ یہ دعوت قبول فرمائی۔انگلستان جانے سے پہلے امام جماعت احمدیہ کا عزمِ یورپ کے عنوان سے حضور کی ایک تحریر جون ۱۹۲۴ء میں شائع ہوئی جس میں آپ نے اس بات کی وضاحت فرمائی کہ خلیفہ کا مرکز میں رہنا ضروری ہے۔فرمایا :۔اس کے بعد میں احباب کو اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ بعض احباب نے اپنے مشورہ کی بناء اس امر پر رکھی ہے کہ مذہبی کا نفرنس نے چونکہ بلایا ہے اس لئے وہاں ضرور جانا چاہئے اور یہ خیال کیا ہے کہ گویا اس سفر کے ساتھ ہی یورپ فتح ہو جائے گا اور ہزاروں لاکھوں آدمی اسلام میں داخل ہو جائیں گے۔میرے نزدیک اس امر پر اور اس امید پر مشورہ دینا درست نہ تھا۔میں نے پہلے بھی بارہا بیان کیا ہے کہ خلیفہ دورہ کرنے والا واعظ نہیں کہ وہ جس جگہ لیکچر دینے کی ضرورت ہو وہاں جائے۔وہ ایک سپاہی نہیں کہ لڑنے کے لئے جائے بلکہ ایک کمانڈر ہے جس نے سپاہیوں کو لڑ وانا ہے۔کسی مذہبی کا نفرنس کی درخواست پر اس کا باہر جانا یا محض لیکچر دینے کے لئے اس کا مرکز سے نکلنا درست نہیں۔یہی طریق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا تھا اور یہی آپ سے پہلے امت محمدیہ کے خلفاء کا رہا ہے۔پس میں طبعا اس خیال کے مخالف ہوں کہ کسی مذہبی کا نفرنس کے بلاوے پر مرکز کو چھوڑوں۔ایک دوست نے خوب لکھا ہے کہ اگر اگلے سال اس سے بڑی مذہبی کا نفرنس ہو گئی تو پھر کیا ہم اپنے خلیفہ سے درخواست کریں گے کہ وہ اب وہاں جائے۔یہ بات بالکل درست ہے مذہبی کا نفرنسیں تو ہر سال ہو سکتی ہیں اور لوگوں کی توجہ اگر مذہب کی طرف پھر