خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 6
خلافة على منهاج النبوة جلد دوم جائے تو بہت بڑے بڑے پیمانوں پر ہو سکتی ہیں مگر ان کی وجہ سے خلیفہ وقت اپنے مرکز کو نہیں چھوڑ سکتا ورنہ اس کے لئے مرکز میں رہنا مشکل ہو جائے گا۔ایک مشہور جرمن مد بر فلاسفر کا یہ قول مجھے نہایت پسند ہے اور بہت ہی سچا معلوم ہوتا ہے کہ ہر کام کے افسروں کو بالکل کام سے الگ اور فارغ رہنا چاہیے تا کہ وہ یہ دیکھتے رہیں کہ کام کرنے والے فارغ نہیں ہیں۔اگر وہ خود کام میں لگ جائیں گے تو دوسرے کام کرنے والوں کی نگرانی نہیں کر سکیں گے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ مرکزی کارکنوں کو صرف نگرانی کا کام کرنا چاہیے جزئی کاموں میں حصہ نہیں لینا چاہئے۔یہ بات اور محکموں کے متعلق بھی درست ہوتی ہے مگر خلافت کے متعلق تو بہت ہی درست ہے۔میں اپنے تجربہ کی بناء پر جانتا ہوں کہ خلافت ایک مردم کش عہدہ ہے۔اس کا کام اس قدر بڑھا ہوا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کا فضل اس کے ساتھ نہ ہو تو یقیناً ایک قلیل عرصہ میں اس عہدہ پر متمکن انسان ہلاک ہو جائے مگر چونکہ خدا تعالیٰ اس عہدہ کا نگران ہے وہ اپنے فضل سے کام چلا دیتا ہے۔غرضیکہ وعظوں اور لیکچروں کے لئے باہر جانا خواہ وہ کسی عظیم الشان مذہبی کا نفرنس کی دعوت ہی پر کیوں نہ ہو خلفاء کے کام کے خلاف بلکہ مشکلات پیدا کرنے کا موجب ہے کیونکہ ہو سکتا ہے کہ آئندہ امریکہ جاپان وغیرہ ممالک میں مذہبی کا نفرنسیں ہوں اور وہاں کے لوگ دعوت دیں۔اگر وہاں بھی جاویں تو ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور اگر نہ جاویں تو قومی تعصب کی وجہ سے ان مملکوں کے لوگ اس کو اپنی ہتک خیال کریں گے اور تبلیغ سلسلہ میں رُکاوٹ پیدا ہوگی۔مغربی ممالک کے لوگ قومی عزت کا اس قدر احساس رکھتے ہیں کہ جن امور کو ہم لوگ بالکل معمولی خیال کرتے ہیں وہ اسے اپنی زندگی اور موت کا سوال سمجھ بیٹھتے ہیں۔پس میں مذہبی کا نفرنس کی دعوت کے جواب میں جانے کے مخالف ہوں اور اس امر میں جو لوگ نہ جانے کا مشورہ دیتے ہیں اُن سے متفق ہوں“۔(انوار العلوم جلد ۸ صفحه ۳۸۲،۳۸۱)