خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 4
خلافة على منهاج النبوة ۴ جلد دوم روحانی خلافت سیاست سے بالا تر ہوگی ۱۹۲۴ء میں لندن میں ویمبلے نمائش منعقد ہوئی جس کے پروگرام میں ایک مذہبی کا نفرنس کا انعقاد بھی شامل تھا۔دنیا کے چوٹی کے علماء کو دعوت دی گئی کہ وہ اپنے مذا ہب کی خوبیاں بیان کریں۔حضرت مصلح موعود کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی۔آپ نے ۲۴ رمئی تا ۶ / جون ۱۹۲۴ء دو ہفتے کے دوران ایک ضخیم کتاب ”احمدیت یعنی حقیقی اسلام تصنیف فرمائی۔اس کتاب میں تمدن کی دوسری قسم یعنی حکومت اور رعایا ، امیر اور غریب کے متعلق احکام بیان فرماتے ہوئے خلافت کے بارے میں فرمایا :۔چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خدا تعالیٰ نے صرف روحانی خلافت دے کر بھیجا تھا اس لئے آئندہ جہاں تک ہو سکے آپ کی خلافت اُس وقت بھی جب کہ بادشاہتیں اس مذہب میں داخل ہوں گی سیاسیات سے بالا رہنا چاہتی ہے۔وہ لیگ آف نیشنز کا اصلی کام سرانجام دے گی اور مختلف ممالک کے نمائندوں سے مل کر ملکی تعلقات کو درست رکھنے کی کوشش کرے گی اور خود مذہبی، اخلاقی، تمدنی اور علمی ترقی اور اصلاح کی طرف متوجہ رہے گی تا کہ پچھلے زمانہ کی طرح اس کی توجہ کو سیاست ہی اپنی طرف کھینچ نہ لے اور دین و اخلاق کے اہم امور بالکل نظر انداز نہ ہو جائیں۔جب میں نے کہا جہاں تک ہو سکے تو میرا یہ مطلب ہے کہ اگر عارضی طور پر کسی ملک کے لوگ کسی مشکل کے رفع کرنے کے لیے استمداد کریں تو ان کے ملک کا انتظام نیابتاً خلافت روحانی کرا سکتی ہے مگر ایسے انتظام کو کم سے کم عرصہ تک محدود رکھا جانا ضروری ہوگا۔(انوارلعلوم جلد ۸ صفحه ۲۹۵)