خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 192
خلافة على منهاج النبوة ۱۹۲ جلد دوم خلافت شخصی کو زیادہ بہتر اور مکمل صورت میں پیش کیا گیا ہے۔ان اصولی سوالوں کے بعد میں ایک دو ضمنی اعتراضوں کو لے لیتا ہوں۔کیا خلافت موعودہ محض اُس خلیفہ کے (۱) ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ خلافت موعودہ جس کا اس آیت میں صلى الله متعلق ہے جو نبی کے معاً بعد آ تا ہے؟ ذکر ہے محض اس خلیفہ کے متعلق ہے جو نبی کے معاً بعد آتا ہے نہ کہ خلفاء کے ایک لمبے سلسلہ کے متعلق۔اس کا جواب یہ ہے۔(۱) رسول کریم علیہ نے خود چاروں خلافتوں کو خلافتِ راشدہ قرار دیا ہے۔آپ فرماتے ہیں۔عَنْ سَفِينَةَ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْخِلَافَةُ ثَلَاثُونَ سَنَةً ثُمَّ تَكُونُ مُلْکا - 19 یعنی حضرت سفینہ کہتے ہیں میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے سنا کہ میرے بعد خلافت صرف تمہیں سال ہو گی اس کے بعد ملوکیت قائم ہو جائے گی۔اور چاروں خلفاء کی مدت صرف تمہیں سال ہی بنتی ہے۔پس جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خلافت کو چاروں خلفاء تک لمبا کرتے ہیں تو کسی دوسرے کا کیا حق ہے کہ اسے پہلے خلیفہ تک محدود کر دے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس خیال کو ”سر الخلافہ“ میں بیان فرمایا ہے مگر یہ درست نہیں۔آپ نے جو کچھ فرمایا ہے وہ شیعوں کے رد میں ہے۔وہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصل جانشین حضرت علی تھے آپ اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ خلافت کا وعدہ قرآن کریم کی آ وعد الله الّذينَ آمَنُوا مِنْكُمْ میں ہے اور اس میں جو شرائط پائی جاتی ہیں وہ بیت بدرجۂ کمال حضرت ابو بکر میں پائی جاتی ہیں۔پس آپ کا مطلب تو یہ ہے کہ قرآن کریم سے حضرت ابو بکر کی خلافت حضرت علیؓ کی خلافت سے زیادہ ثابت ہے نہ یہ کہ حضرت علی خلیفہ نہ تھے۔آپ نے اپنی کتب میں چار خلفاء کے الفاظ بھی استعمال کئے ہیں اسے اور حضرت علی کی خلافت کا بھی ذکر فرمایا ہے ۲ کے اس کا مزید ثبوت یہ ہے کہ مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم نے شیعوں کے رڈ میں ایک لیکچر دیا