خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 191 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 191

خلافة على منهاج النبوة ۱۹۱ جلد دوم طور پر نشو و نما نہ پاتے تھے کیونکہ اُن کے مقرر کرنے میں اُمت کا دخل نہ ہوتا تھا اُسی طرح جس طرح نبیوں کا اپنے تابع نبیوں کی نبوت میں دخل نہ ہوتا تھا۔چنانچہ جہاں بھی باپ کے بعد بیٹا اور بیٹے کے بعد پوتا ورثہ کے طور پر تخت حکومت سنبھالتے چلے جاتے ہیں وہاں اس بات کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی کہ پبلک کے علمی معیار کو بلند کیا جائے اور اُس کے ذہنی قوی کو ایسا نشو ونما دیا جائے کہ وہ صحیح رنگ میں حکام کا انتخاب کر سکے لیکن جہاں حکام کا انتخاب سپبلک کے ہاتھ میں ہو وہاں حکومت اس بات پر مجبور ہوتی ہے کہ ہر فرد کو عالم بنائے ، ہر فرد کو سیاست دان بنائے اور ہر فرد کوملکی حالات سے باخبر رکھے تا کہ انتخاب کے وقت اُن سے کوئی بیوقوفی سرزد نہ ہو جائے۔پس اسلام ہی وہ مذہب ہے جس نے لوگوں کے نشو ونما کو مد نظر رکھتے ہوئے حکام کے انتخاب کا حکم دیا۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے انبیاء کی خلافت خواہ وہ خلافتِ نبوت ہو یا خلافت ملوکیت ناقص تھی لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ صحیح معنوں میں کامل نبی تھے اس لئے آپ کے بعد جو نبی آیا یا آئیں گے وہ آپ کے تابع ہی نہ ہونگے بلکہ آپ کے فیض سے نبوت پانے والے ہونگے۔اسی طرح چونکہ آپ کی قوم صحیح معنوں میں کامل اُمت تھی جیسا کہ فرمایا۔كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أخرجت للنَّاسِ ١٨ اس لئے ضروری تھا کہ اُن کے کام کو چلانے والے بھی اُسی رنگ میں آئیں جس طرح اس اُمت میں نبی آنے تھے یعنی اُن کے انتخاب میں قوم کو دخل ہو۔پس اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرمایا کہ وہ ملو کی خلیفہ نہ ہوں جن کے انتخاب میں قوم کو دخل نہ ہوتا تھا بلکہ انتخابی خلیفہ ہوں تا کہ اُمت محمدیہ کی پوری ترجمانی کرنے والے ہوں اور اُمت کی قوت کا صحیح نشو و نما ہو۔چنانچہ اس حکم کی وجہ سے ہر خلیفہ اس بات پر مجبور ہے کہ وہ لوگوں میں زیادہ سے زیادہ علم اور سمجھ کا مادہ پیدا کرے تاکہ وہ اگلے انتخاب میں کوئی غلطی نہ کر جائیں۔پس یہ فرق اس وجہ سے ہے کہ نبی کریم ﷺ سید الانبیاء ہیں اور آپ کی اُمت خَيْرُ الْأُمم ہے۔جس طرح سید الانبیاء کے تابع نبی آپ کے فیضان سے نبوت پاتے ہیں اسی طرح خیر الامم کے خلفاء قوم کی آواز سے خلیفہ مقرر ہوتے ہیں۔پس یہ نظامِ اسلام کی برتری اور نبی اسلام اور اُمّتِ اسلامیہ کے علو مرتبت کی وجہ سے ہے اور اس سے خلافتِ فردی کو مٹایا نہیں گیا بلکہ