خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 193
خلافة على منهاج النبوة ۱۹۳ جلد دوم تھا جس میں انہوں نے اسی آیت سے حضرت ابو بکرؓ ، حضرت عمرؓ اور حضرت عثمان کو خلیفہ ثابت کیا ہے اور حضرت علی کی خلافت کو بھی مختلف مقامات میں تسلیم کیا ہے۔آپ نے بعد میں اس لیکچر کو بعض زوائد کے ساتھ کتابی صورت میں خلافتِ راشدہ کے نام سے چھپوا دیا تھا۔اس کتاب میں وہ لکھتے ہیں کہ میرا یہ مضمون حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے سنا اور بار بار پڑھوایا اور اس کے کچھ حصہ کا ترجمہ اپنی کتاب حجۃ اللہ میں بھی کر دیا اور مختلف مقامات پر میرا یہ مضمون دوستوں کو اپنی طرف سے بطور تحفہ بھجوایا۔پس معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس عقیدہ میں حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سے متفق تھے جس کا انہوں نے ” خلافتِ راشدہ میں اظہار کیا ہے دوسرا جواب اس کا یہ ہے کہ پہلے خلیفہ کی خلافت ثابت ہو جائے تو دوسروں کی خود بخود ثابت ہو جاتی ہے۔جیسے حضرت ابو بکر پہلے خلیفہ ہوئے اور پھر حضرت ابوبکر نے حضرت عمرؓ کا انتخاب کیا اور مسلمانوں سے مشورہ کر کے انھیں خلیفہ مقرر کیا۔اسی طرح اس زمانہ میں حضرت خلیفہ اول نے ایک دفعہ تو میرا نام لے کر وصیت کی اور دوسری دفعہ بغیر نام کے وصیت کی مگر بہر حال خلافت کے وجود کو آپ نے قائم کیا۔آپ کی وصیت کے الفاظ یہ ہیں :۔خاکسار بقائی جو اس لکھتا ہے لا إِلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ میرا جانشین متقی ہو ، ہر دلعزیز عالم با عمل۔حضرت صاحب کے پرانے اور نئے احباب سے سلوک چشم پوشی و درگزر کو کام میں لا وے۔میں سب کا خیر خواہ تھا وہ بھی خیر خواہ رہے قرآن وحدیث کا درس جاری رہے۔والسلام نورالدین ۴ / مارچ اسی طرح آپ ایک دوسری جگہ فرماتے ہیں کہ مجھے بھی خدا تعالیٰ نے خلیفہ مقرر کیا ہے اور میرے بعد جو ہو گا اسے بھی خدا ہی خلیفہ مقرر کرے گا۔چنانچہ آپ نے فرمایا:۔