خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 166 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 166

خلافة على منهاج النبوة جلد دوم غرض تمام خلفاء کے حالات میں ہمیں يَعْبُدُونَني لا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا کا نہایت اعلیٰ درجہ کا نظارہ نظر آتا ہے جو اس بات کا یقینی اور قطعی ثبوت ہے کہ خدا تعالیٰ نے انہیں خود مقام خلافت پر کھڑا کیا تھا اور وہ آپ ان کی تائید اور نصرت کا ذمہ دار رہا۔آیت استخلاف پر اعتراضات اب میں اُن اعتراضات کو لیتا ہوں جو عام طور پر اس آیت پر کئے جاتے ہیں۔پہلا اعتراض اس آیت پر یہ کیا جاتا ہے کہ اس آیت میں اُمتِ مسلمہ سے وعدہ ہے نہ کہ بعض افراد سے اور اُمت کو خلیفہ بنانے کا وعدہ ہے نہ کہ بعض افراد کو۔پس اس سے مراد مسلمانوں کو غلبہ اور حکومت کا مل جانا ہے۔دوسرا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ اس آیت میں كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ کہا ہے اور پہلی قوموں کو خلافت نبوت یا ملوکیت کے ذریعہ سے ملی تھی۔پس اسی حد تک تشبیہ تسلیم کی جاسکتی ہے۔ہم مانتے ہیں کہ مسلمانوں میں نبی ہوں گے اور پھر یہ کہ ملوک ہوں گے مگر جس قسم کی خلافت تم کہتے ہو وہ نہ تو نبوت کے تحت آتی ہے اور نہ ملوکیت کے تحت آتی ہے۔پھر اس کا وجود کہاں سے ثابت ہوا۔تیسرا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ اگر اس خلافت کو تسلیم بھی کر لیا جائے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہوئی تو چونکہ اس خلافت کے ساتھ حکومت بھی شامل تھی اس لئے وَجَعَلَكُمْ شُلُوا کے ماتحت وہ آ سکتی تھی لیکن اس خلافت کا ثبوت کہاں سے ملا جو جماعت احمدیہ میں قائم ہے۔یہ خلافت نہ تو خلافت نبوت ہے اور نہ خلافت ملوکیت۔چوتھا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ اس آیت سے اگر افراد مراد لئے جائیں جماعت نہ لی جائے تو پھر خلافت نبوت اور خلافت ملوکیت کا پتہ چلتا ہے اور معنی یہ بنتے ہیں کہ اس اُمت میں سے بعض افراد نبی ہوں گے اور بعض افراد ملوک ہوں گے۔مگر جو خلافتِ نبوت پہلے جاری تھی اسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ختم کر دیا اور تم خود بھی تسلیم کرتے ہو کہ جس قسم کے نبی پہلے آیا کرتے تھے اب اس قسم کے نبی نہیں آ سکتے اور ملوکیت کے متعلق بھی تم خود قائل ہو کہ خلفاء ملوک میں شامل نہ تھے۔جیسا کہ احادیث میں آتا ہے عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ