خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 165
خلافة على منهاج النبوة ۱۶۵ جلد دوم کر رہے تھے مگر حضرت عمر کو خدا تعالیٰ نے مقام خلافت پر کھڑا کرنے کے بعد جو قوت بخشی اُس کے آگے ان چیزوں کی کوئی حقیقت نہ تھی۔حضرت ابو ہریرہ کا کسری کے رومال میں تھوکنا ہی وہ جنگ ہے جس میں مسلمانوں کو جب فتح حاصل تو مالِ غنیمت میں کسری کا ایک رومال بھی آیا جو حضرت ابو ہریرہ کو ملا۔ایک دن انہیں کھانسی اُٹھی تو انہوں نے کسری شاہ ایران کا رومال نکال کر اس میں تھوک دیا اور پھر کہا بخ بخ ابوھریرہ۔کہ واہ ، واہ ابو ہریرہ تیری بھی کیا شان ہے کہ تو آج کسری شاہ ایران کے رو مال میں ٹھوک رہا ہے۔لوگوں نے پوچھا کہ کیا بات ہے؟ انہوں نے کہا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بعض دفعہ مجھے اتنے فاقے ہوتے تھے کہ میں بھوک سے بیتاب ہو کر بیہوش ہو جاتا تھا اور لوگ یہ سمجھ کر کہ مجھے مرگی کا دورہ ہو گیا ہے میرے سر پر جھوتیاں مارنی شروع کر دیتے تھے مگر آج یہ حالت ہے کہ میں شاہی رومال میں تھوک رہا ہوں ۵۲ تو يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بي شَيْئًا کی علامت خدا تعالیٰ نے خلفائے راشدین کے ذریعہ نہایت واضح رنگ میں پوری فرمائی اور انہوں نے خدا تعالیٰ کے سوا کبھی کسی کا خوف اپنے دل میں نہیں آنے دیا۔حضرت عثمان اور حضرت علی کا دلیرانہ مقابلہ اسی طرح حضرت عثمان جیسے باحیا اور رقیق القلب انسان نے اندرونی مخالفت کا مقابلہ جس یقین سے کیا وہ انسانی عقل کو دنگ کر دیتا ہے۔حالانکہ وہ عام طور پر کمزور سمجھے جاتے ہیں مگر جب ان کا اپنا زمانہ آیا تو انہوں نے ایسی بہادری اور جرات سے کام لیا کہ انسان ان واقعات کو پڑھ کر حیران رہ جاتا ہے۔یہی حال حضرت علیؓ کا ہے کسی مخالفت یا خطرے کی انہوں نے پرواہ نہیں کی حالانکہ اندرونی خطرے بھی تھے اور بیرونی بھی۔مگر ان کے مد نظر صرف یہی امر رہا کہ خدا تعالیٰ کی مرضی پوری ہو اور ذرا بھی کسی سے خوف کھا کر اس منشاء الہی میں جو انہوں نے سمجھا تھا فرق نہیں آنے دیا۔