خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 167
خلافة على منهاج النبوة 172 جلد دوم صلى الله عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ لا تَكُونُ النُّبُوَّةُ فِيكُمْ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللهُ تَعَالَى ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةٌ عَلَى مِنْهَا جِ النُّبُوَّةِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللهُ تَعَالَى ثُمَّ تَكُونُ مُلكاً عَاضًا فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ - ۵۷ یعنی رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔تم میں نبوت رہے گی جب تک خدا چاہے گا پھر خدا اس نعمت کو اُٹھالے گا اور تمہیں خلافت علی منہاج النبوۃ کی نعمت دے گا اور یہ خلافت تم میں اس وقت تک رہے گی جب تک خدا چاہے گا۔پھر خدا اس نعمت کو بھی اُٹھا لے گا اور جب تک چاہے گا تم میں ملوکیت کو قائم رکھے گا۔پس جبکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خلفاء کے بادشاہ ہونے سے بھی انکار کیا ہے جیسا کہ فرمایا کہ پہلے خلافت ہوگی اور پھر ملوکیت تو معلوم ہوا کہ خلافت نبوت اور خلافت ملوکیت دونوں اُمت محمدیہ کے افراد کو نہیں مل سکتیں اور جب صورت یہ ہے تو اس آیت سے کسی فردی خلافت کا ثبوت نہ ملا بلکہ صرف قومی خلافت ہی مراد لی جاسکتی ہے اور اس سے کسی کو انکار نہیں۔اس سوال کا جواب کہ اس آیت میں اب میں ان تمام سوالات کے جواب دیتا ہوں۔پہلا اُمت مسلمہ سے وعدہ ہے، نہ کہ بعض افراد سے سوال کہ اس آیت میں اُمتِ مسلمہ سے وعدہ ہے نہ کہ بعض افراد سے اس کے یہ جوابات ہیں۔(۱) بے شک وعدہ قوم سے ہے مگر قوم سے وعدہ کے یہ معنی نہیں کہ افراد کے ذریعہ سے وہ وعدہ پورا نہ ہو۔بعض وعدے قوم سے ہوتے ہیں لیکن افراد کے ذریعہ سے پورے کئے جاتے ہیں اور کہا یہی جاتا ہے کہ قوم سے جو وعدہ کیا گیا تھا وہ پورا ہو گیا۔اس کی مثالیں دنیا کی ہر زبان میں ملتی ہیں۔مثلاً ہماری زبان میں کہا جاتا ہے کہ انگریز با دشاہ ہیں۔اب کیا اس کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ ہر انگریز بادشاہ ہے۔ہر انگریز تو نہ بادشاہ ہے اور نہ بادشاہ بن سکتا ہے مگر کہا یہی جاتا ہے کہ انگریز با دشاہ ہیں۔اسی طرح کہا جاتا ہے کہ فلاں قوم حاکم ہے حالانکہ ساری قوم کہاں حاکم ہوتی ہے چند افراد کے سپر دحکومت کا نظم ونسق ہوتا ہے اور باقی سب اس کے تابع ہوتے ہیں۔اسی طرح کہا جاتا ہے فلاں قوم بڑی دولت مند ہے مگر اس