خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 160
خلافة على منهاج النبوة 17۔جلد دوم ,, سنتوں پر عمل کرنا ہر انسان کی نجات کیلئے ضروری ہے۔غرض آپ بھی مولوی غلام علی صاحب کے ساتھ گئے اور جمعہ کی نماز پڑھی۔جب مولوی غلام علی صاحب جمعہ کی نماز سے فارغ ہو گئے تو انہوں نے چار رکعت ظہر کی نماز پڑھ لی۔آپ فرماتے تھے کہ میں نے اُن سے کہا مولوی صاحب! یہ جمعہ کی نماز کے بعد چار رکعتیں کیسی ہیں۔وہ کہنے لگے یہ احتیاطی “ ہے۔میں نے کہا مولوی صاحب آپ تو وہابی ہیں اور عقیدہ اس کے مخالف ہیں پھر احتیاطی“ کے کیا معنی ہوئے ؟ وہ کہنے لگے یہ احتیاطی ان معنوں میں نہیں کہ خدا کے سامنے ہمارا جمعہ قبول ہوتا ہے یا ظہر بلکہ ان معنوں میں ہے کہ لوگ مخالفت نہ کریں۔تو کئی لوگ اس طرح بھی کام کر لیتے ہیں جیسے مولوی غلام علی صاحب نے کیا کہ اپنے دل میں تو وہ اس بات پر خوش رہے کہ انہوں نے جمعہ پڑھا ہے اور اُدھر لوگوں کو خوش کرنے کیلئے چار رکعت ظہر کی نماز بھی پڑھ لی۔ایک سنی بزرگ کا لطیفہ اسی طرح ایک لطیفہ مشہور ہے۔کہتے ہیں کوئی سنی بزرگ تھے جو شیعوں کے علاقہ میں رہتے تھے۔ایک دفعہ غربت کی وجہ سے وہ بہت پریشان ہو گئے اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ بادشاہ کے پاس پہنچ کر مدد کی درخواست کرنی چاہئے۔چنانچہ وہ اُس کے پاس گئے اور مدد کی درخواست کی۔وزیر نے اُن کی شکل کو دیکھ کر بادشاہ سے کہا کہ یہ شخص سنی معلوم ہوتا ہے۔بادشاہ نے کہا تمہیں کس طرح معلوم ہوا ؟ وہ کہنے لگا بس شکل سے ایسا ہی معلوم ہوتا ہے۔بادشاہ کہنے لگا یہ کوئی دلیل نہیں ، تم میرے سامنے اس کا امتحان لو۔چنانچہ وزیر نے اُن کے سامنے حضرت علی کی بڑے زور سے تعریف شروع کر دی وہ بزرگ بھی حضرت علیؓ کی تعریف کرنے لگ گئے۔بادشاہ نے دیکھ کر کہا کہ دیکھا ! تم جو کچھ کہتے تھے وہ غلط ثابت ہوا یا نہیں۔اگر یہ شیعہ نہ ہوتا تو کیا ضرت علیؓ کی ایسی ہی تعریف کرتا۔وزیر کہنے لگا۔بادشاہ سلامت ! آپ خواہ کچھ کہیں مجھے یہ کتنی ہی معلوم ہوتا ہے۔بادشاہ نے کہا اچھا امتحان کیلئے پھر کوئی اور بات کرو۔چنانچہ وزیر کہنے لگا کہو ہر ہر سہ لعنت ، یعنی ابو بکر، عمر اور عثمان پر ( نَعُوذُ بِاللهِ ) لعنت۔وہ بھی کہنے لگ گیا۔”بر ہر سہ لعنت۔بادشاہ نے کہا آب تو یہ یقینی طور پر شیعہ ثابت ہو گیا ہے۔وہ کہنے لگے