خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 161 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 161

خلافة على منهاج النبوة 171 جلد دوم بظاہر تو ایسا ہی معلوم ہوتا ہے مگر میرا دل مطمئن نہیں۔آخر وز یر انہیں الگ لے گیا اور کہا سچ سچ بتاؤ تمہارا مذہب کیا ہے؟ انہوں نے کہا میں ہوں تو سنی ہی۔وہ کہنے لگا پھر تم نے بر ہر سہ لعنت کیوں کہا؟ وہ بزرگ کہنے لگے تمہاری اِن الفاظ سے تو یہ مراد تھی کہ حضرت ابو بکر، حضرت عمرؓ اور حضرت عثمان پر لعنت ہو مگر میری مراد یہ تھی کہ آپ دونوں اور مجھ پر لعنت ہو۔آپ لوگوں پر اس لئے کہ آپ بزرگوں پر لعنت کرتے ہیں اور مجھ پر اس لئے کہ مجھے اپنی بد بختی کی وجہ سے تم جیسے لوگوں کے پاس آنا پڑا۔غرض انسان کئی طریق سے وقت گزار لیتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ اس طرح اُس نے کسی گناہ کا ارتکاب نہیں کیا۔مگر فرمایا يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا خلفاء انتہائی طور پر دلیر ہو نگے اور خوف و ہراس | اُن کے قریب بھی نہیں پھٹکے گا۔وہ جو کچھ کریں گے خدا کی رضا کیلئے کریں گے، کسی انسان سے ڈر کر اُن سے کوئی فعل صادر نہیں ہوگا۔فتنہ ارتداد کے مقابلہ میں یہ علامت بھی خلفائے راشدین میں بتمام و کمال پائی جاتی ہے۔چنانچہ جب رسول کریم صلی اللہ حضرت ابوبکر کی استقامت علیہ وسلم نے وفات پائی اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ مقرر ہوئے تو اُس وقت سارا عرب مرتد ہو گیا۔صرف دو جگہ نماز با جماعت ہوتی تھی باقی تمام مقامات میں فتنہ اُٹھ کھڑا ہوا اور سوائے مکہ اور مدینہ اور ایک چھوٹے سے قصبہ کے تمام لوگوں نے زکوۃ دینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا تھا کہ خُذْمِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُو اِن کے مالوں سے صدقہ لے، کسی اور کو یہ اختیار نہیں کہ ہم سے زکوۃ وصول کرے۔غرض سارا عرب مرتد ہو گیا اور وہ لڑائی کیلئے چل پڑا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں گوا سلام کمزور تھا مگر قبائل عرب متفرق طور پر حملہ کرتے تھے۔کبھی ایک گروہ نے حملہ کر دیا اور کبھی دوسرے نے۔جب غزوہ احزاب کے موقع پر کفار کے لشکر نے اجتماعی رنگ میں مسلمانوں پر حملہ کیا تو اُس وقت تک اسلام بہت کچھ طاقت پکڑ چکا تھا گوا بھی اتنی زیادہ طاقت حاصل نہیں ہوئی تھی کہ انہیں آئندہ کیلئے کسی حملے کا ڈر ہی نہ رہتا۔اس کے بعد جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ