خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 159
خلافة على منهاج النبوة ۱۵۹ جلد دوم آفات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔دنیا میں بڑے سے بڑا دلیر آدمی بھی بعض دفعہ لوگوں کے ڈر سے ایسا پہلو اختیار کر لیتا ہے جس سے گو یہ مقصود نہیں ہوتا کہ وہ سچائی کو چھوڑ دے مگر دل میں یہ خواہش ضرور ہوتی ہے کہ میں ایسے رنگ میں کام کروں کہ کسی کو شکوہ پیدا نہ ہو۔مولوی غلام علی صاحب ایک کٹر وہابی ہوا کرتے تھے۔وہابیوں کا یہ فتویٰ ہے کہ ہندوستان میں جمعہ کی نماز ہو سکتی ہے لیکن حنفیوں کے نزدیک ہندوستان میں جمعہ کی نماز جائز نہیں کیونکہ وہ کہتے ہیں جمعہ پڑھنا تب جائز ہو سکتا ہے جب مسلمان سلطان ہو۔جمعہ پڑھانے والا مسلمان قاضی ہو اور جہاں جمعہ پڑھا جائے وہ شہر ہو۔ہندوستان میں انگریزی حکومت کی وجہ سے چونکہ نہ مسلمان سلطان رہا تھا نہ قاضی اس لئے وہ ہندوستان میں جمعہ کی نماز پڑھنا جائز نہیں سمجھتے تھے۔ادھر چونکہ قرآن کریم میں وہ یہ لکھا ہوا دیکھتے تھے کہ جسہ تمہیں جمعہ کیلئے بلایا جائے تو فورا تمام کام چھوڑتے ہوئے جمعہ کی نماز کیلئے چل پڑو اس لئے اُن کے دلوں کو اطمینان نہ تھا۔ایک طرف ان کا جی چاہتا تھا کہ وہ جمعہ پڑھیں اور دوسری طرف وہ ڈرتے تھے کہ کہیں کوئی حنفی مولوی ہمارے خلاف فتویٰ نہ دے دے۔اس مشکل کی وجہ سے ان کا یہ دستور تھا کہ جمعہ کے روز گاؤں میں پہلے جمعہ پڑھتے اور پھر ظہر کی نماز ادا کر لیتے اور یہ خیال کرتے کہ اگر جمعہ والا مسئلہ درست ہے تب بھی ہم بچ گئے اور اگر ظہر پڑھنے والا مسئلہ صحیح ہے تب بھی بچ گئے اسی لئے وہ ظہر کا نام ظہر کی بجائے احتیاطی“ رکھا کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ اگر خدا نے ہمارے جمعہ کی نماز کو الگ پھینک دیا تو ہم ظہر کو اٹھا کر اس کے سامنے رکھ دیں گے اور اگر اُس نے ظہر کو رڈ کر دیا تو ہم جمعہ اُس کے سامنے پیش کر دیں گے۔اگر کوئی احتیاطی“ نہ پڑھتا تو سمجھا جاتا کہ وہ وہابی ہے۔مولوی غلام علی صاحب کا ایک واقعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ ہم مولوی غلام علی صاحب کے ساتھ گورداسپور گئے راستہ میں جمعہ کا وقت آ گیا ہم نماز پڑھنے کیلئے ایک مسجد میں چلے گئے۔آپ کا عام طریق وہابیوں سے ملتا جلتا تھا کیونکہ وہابی حدیثوں کے مطابق عمل کرنا اپنے لئے ضروری جانتے ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی